تحدیث نعمت — Page 115
۱۱۵ اوروہ خود کچھ پریشان ہوئے کہ مجھے بھی سفر کا پر خطر مرصد در پیش ہے۔جب ماموں صاحب کو دانہ دیا میں میرا خط ملا تو وہ خط پڑھتے ہی سیالکوٹ پہنچے اور والد صاحب کو مبارکباد دی۔والد صاحب نے کہا کہ کس بات کی مبارکباد ؟ کہا ظفر اللہ خاں کے بحریت واپس پہنچنے کی۔انہوں نے کہا کہ اسکی تو ابھی یہی اطلاع آتی ہے۔کہ وہ لندن سے روانہ ہو نیوالا ہے۔ماموں جان نے کہا کہ جب اس نے خط لکھا تھا تو وہ روانہ ہو نیوالا تھا۔لیکن جس جہانہ میں خط آیا ہے اسی میں وہ بھی آگیا ہے۔میرے نام تو اس کا خط آیا ہے۔اس میں وضاحت سے میں لکھا ہے۔اس سے میرے والدین کو یہ اطمینان تو ہو گیا کہ میں فضل اللہ جبریت دواپس پہنچ گیا ہوں۔لیکن اب یہ جستجو ہوئی کہ میں رستے میں کہاں رک گیا ہوں۔والدہ صاحبہ نے ماموں صاحب سے کہا اب تو وہ سیالکوٹ پہنچنے والا ہی ہو گا۔اگر آپ میرے ساتھ چلیں تو ہم وزیر آباد پہنچ کر اس کا خیر مقدم کریں۔چنانچہ والدہ صاحبہ ،ماموں صاحب اور عزیز شکراللہ خان وزیر آباد چلےگئے اور لاہور سے آنیوالی گاڑیوں کے مسافروں کی پڑتال کرتے رہے۔جب تمام رات کی بیداری سے والدہ صاحبہ کی طبیعت نڈھال ہونے لگی تو ماموں صاحب نے انہیں تو عزیزہ شکر اللہ خان کے ساتھ سیالکوٹ واپس بھیج دیا اور خود وزیر آباد ٹھہرے کہ جب میں آؤں تو مجھے وہاں روک لیں اور والد صاحب کو اطلاع دیں پھر جیسے وہ ارشاد فرمائیں اس کے مطابق ہم دونوں سیالکوٹ پہنچ جائیں۔اتنے میں والد صاب نے اسٹیشن پر میرے غیر مقدم کیلئے دعوتی کارڈ چھپنے دیئے جن میں وقت اور تاریخ لکھنے کیلئے جگہ خالی ** رکھی۔ان کے ایک منشی صاحب مطبع سے یہ کارڈ لیکر مکان پر پہنچے ہی تھے کہ ساتھ ہی میں بھی پہنچے ؟ ماموں صاحب ابھی وزیر آباد اسٹیشن پر انتظار ہی میں تھے۔والدہ صاحبہ کو تو مجھے دیکھتے ہی اطمینان اکبھی اند ہو گیا۔اور انہوں نے شکرانے کے نوافل ادا کرنے شروع کر دیئے۔والد صاحب کو طبعاً وشی تھی ہوئی اور اطمینان بھی لیکن ان کی خوشی اس خیال سے کچھ ادھوری سی رہ گئی کہ وہ اپنی خواہش کے مطابق غیر مقدم کی تقریب نہ منا سکے۔دوہے دن جب کچری تشریف لے گئے تو ان کے احباب میں سے ہیں جس کو میرے واپس آنے کی خبر ملی انہوں نے والد صاحب کو مبارکباد پیش کی۔مرزا ظفر اللہ خال صاحب جو وزیر آباد کے مشہور رئیس خاندان میں سے تھے ان دنوں سیالکوٹ میں سب حج درجہ اول تھے ده اگر تپه انگریزی نہیں جانتے تھے لیکن نہایت قابل اور فہمیدہ بزرگ تھے۔انہوں نے والد صاحب سے کہا سنا ہے کہ ظفر اللہ خاں واپس پہنچ گیا ہے۔والد صاحب نے کہا اللہ تعالے کا شکر ہے لیکن ہمیں تو اس نے اطلاع بھی نہ دی۔انہوں نے فرمایا معلوم ہوتا ہے بڑا محتاط اور سعادت مند نوجوان ہے۔ایک تو ایسے خطرے کے وقت میں سفر پر روانہ ہونے کی اگر آپ کو پہلے سے اطلاع ہوتی تو آپ اس کے سفر کے