تذکرہ — Page 59
اَنْتَ مِنِّیْ بِـمَنْزِلَۃِ تَوْحِیْدِیْ وَتَفْرِیْدِ یْ ۴۔فَـحَانَ اَنْ تُعَانَ وَتُعْرَفَ بَیْنَ النَّاسِ۔۳۔تو مجھ سے ایسا ہے جیسا میری توحید اور تفرید؎۱۔۴۔سو وہ وقت آگیا جو تیری مدد کی جائے اور تجھ کو لوگوں میں معروف و مشہور کیا جائے۔۵۔ھَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّ ھْرِ لَمْ یَکُنْ شَیْئًا مَّذْکُوْرًا۔۵۔کیا انسان پر یعنی تجھ پر وہ وقت نہیں گذرا کہ تیرا دنیا میں کچھ بھی ذکر و نہ تھا۔یعنی تجھ کو کوئی نہیں جانتا تھا کہ تو کون ہے اور کیا چیز ہے اور کسی شمار و حساب میں نہ تھا یعنی کچھ بھی نہ تھا۔یہ گذشتہ تلطفات و احسا نات کا حوالہ ہے تا محسن حقیقی کے آئندہ فضلوں کے لئے ایک نمونہ ٹھہرے۔۶۔سُبْـحَانَ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی زَادَ مَـجْدَکَ۔یَنْقَطِعُ اٰبَآ ؤُکَ وَ یُبْدَءُ مِنْکَ۔۶۔سب پاکیاں خدا کے لئے ہیں جو نہایت برکت والا اور عالی ذات ہے۔اُس نے تیرے مجد کو زیادہ کیا۔تیرے آباء کا نام اور ذکر منقطع ہوجائے گا۔یعنی بطور مستقل اُن کا نام نہیں رہے گا اور خدا تجھ سے ابتداء شرف اور مجد کا کرے گا۔۷۔نُصِرْتَ بِالرُّعْبِ وَاُحْیِیْتَ بِا لصِّدْ قِ اَیُّـھَا الصِّدِّ یْقُ۔۸۔نُصِرْتَ وَقَالُوْا لَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ۔۷۔تو رعب کے ساتھ مدد کیا گیا اور صدق کے ساتھ زندہ کیا گیا اے صدیق۔۸۔تو مدد کیا گیا اور مخالفوں نے کہا کہ اب گریز کی جگہ نہیں۔یعنی امدادِ الٰہی اُس حد تک پہنچ جائے گی کہ مخالفوں کے دل ٹوٹ جائیں گے اور اُن ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’میرے نزدیک اس کے یہ معنی ہیں کہ وہ شخص بہ منزلہ توحید کے ہوتا ہے جو کہ ایسے زمانہ میں آوے جبکہ توحید کی حقارت اور بے عزتی ہوتی ہو اور شرک کی عظمت اور قدر کی جاتی ہو۔اس شخص مامورشدہ کو توحید کی پیاس ایسی لگائی جاتی ہے کہ وہ تمام اپنے اغراض اور مقاصد کو ایک طرف رکھ کر توحید کے قائم کرنے میں خود ایک مجسّم توحید ہوجاتا ہے۔اس کے اٹھنے بیٹھنے اور حرکت اور سکون اور ہر ایک قول و فعل میں توحید کی لو اُسے لگی ہوئی ہوتی ہے۔دنیا میں لوگوں نے اپنے اپنے مقاصد کو بُت بنارکھا ہے مگر جب تک خدا کسی کو یہ سوز و گداز توحیدکے واسطے نہ لگائے تب تک نہیں لگ سکتا جیسے لوگ اولاد اور اپنی دوسری اغراض کے لئے بے قرار ہوتے ہیں حتیٰ کہ بعض خود کشیاں کرلیتے ہیں اسی طرح وہ توحید کے لئے بےقرار ہوتا ہے کہ خدا کی خواہشات اس کی توحید اور عظمت اور جلال غالب آویں۔اس وقت کہا جاتا ہے کہ اَنْتَ مِنِّیْ بِـمَنْزِلَۃِ تَوْحِیْدِیْ وَ تَفْرِیْدِیْ۔‘‘ (البدر مورخہ ۱۰ ؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ۹۱