تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 771 of 1089

تذکرہ — Page 771

۴؍ اپریل۱۹۰۵ء میاں امام الدین صاحبؓ سیکھوانی نے بیان کیا کہ حضرت صاحب ؑ نے فرمایا کہ ’’مجھے خدا نے فرمایا ہے جو شریر ہوگا اُس کو مَیں دنیا میں بھی عذاب دوں گا اور آخرت میں بھی۔اگر شرافت سے وقت گذارلے خواہ بت پرستی کرے تو اس کے متعلق خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ اُس کو مَیں حشر کو عذاب دوں گا۔‘‘ (الحکم جلد ۳۸ نمبر ۳۵، ۳۶ مورخہ ۷، ۱۴؍ اکتوبر ۱۹۳۵ء صفحہ ۵) ۱۹۰۵ء ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب ؓ پیر منظور محمد صاحب ؓ سے بیان کرتے تھے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام بڑے زلزلہ کے بعد باغ میں مقیم تھے تو ایک دن آپ کو الہام ہوا تھا کہ۔’’تین بڑے آدمیوں میں سے ایک کی موت‘‘ …کچھ دن میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ سیالکوٹی بیمار ہوگئے اور چند روز میں فوت ہوگئے۔(سیرت المہدی مؤلفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم۔اے، جلد ۱ روایت نمبر ۴۹۷ صفحہ ۵۱۵، ۵۱۶ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱۹۰۵ء قاضی حبیب اللہ صاحبؓ لاہوری بیان کرتے ہیں کہ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام) جب مولوی عبدالکریم صاحبؓ کی قبر پر دعا فرماکر واپس تشریف لارہے تھے تو… فرمانے لگے۔’’آج رات مجھے الہام ہوا ہے۔حَرَامٌ عَلٰی قَرْیَۃٍ اَھْلَکْنَاھَا اَنَّـھُمْ لَا یَـرْجِعُوْنَ۔۱؎ اور اس کی بار بار تکرار ہوئی۔فرمایا یہ پہلے بھی کئی مرتبہ الہام ہوا ہے مگر رات اِس کے عجیب معنی سمجھا ئے گئے وہ یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ مَیں نے یہ فیصلہ کر چھوڑا ہے کہ آئندہ لیکھرام جیسے۔عبداللہ آتھم جیسے۔پادری فنڈل۲؎ جیسے۔عماد الدین جیسے پیدا ہی نہیں کروں گا۔‘‘ (الحکم جلد ۳۹ نمبر ۲۲ مورخہ ۱۴ ؍ اکتوبر ۱۹۳۶ء صفحہ ۴) دسمبر۱۹۰۵ء حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا۔’’مجھے خوب یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک دفعہ باغ میں گئے اور فرمایا مجھے یہاں چاندی کی بقیہ حاشیہ۔سے منع کرنا۔احباب کا ساتھ چلنے کی خواہش کرنا اور آ پ کا روک دینا۔گھوڑے کا بِدک کر تیز ہوجانا اور دونوں ساتھیوں کا پیچھے رہ جانا اور پھر آپ کا خاص اُس جگہ پر گرنا جہاں پتھر تھے، ایسے عجیب واقعات ہیں کہ سوائے اِس کے کہ یقین کیا جائے کہ خدا تعالیٰ کے خاص ارادے کے ماتحت حضرت صاحبؑ کی پیشین گوئی کو پورا کرنے کے لئے ہوئے ہیں اَور کوئی صورت نظر نہیں آتی۔‘‘ (تشحیذ الاذہان نومبر ۱۹۱۰ءصفحہ ۴۰۴) ۱ (ترجمہ از ناشر) قطعاً لازم ہے کسی بستی کے لئے جسے ہم نے ہلاک کردیا ہو کہ وہ لوگ پھر لوٹ کر نہیں آئیں گے۔۲ Pfander