تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 770 of 1089

تذکرہ — Page 770

۱۰؍ اکتوبر۱۹۰۴ء میاں اللہ یار صاحب ؓ ٹھیکے دار بٹالوی نے بواسطہ مولوی غلام نبی صاحب مصری بیان کیا کہ مقدمہ گورداسپور کی کارروائی سے فارغ ہونے کے بعد جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام واپس ہونے لگے تو حضور ؑ کو کشف یا الہام ہوا کہ۔’’راستہ بٹالہ والا خطرناک ہے‘‘ اِس لئے حضور ؑ نے حکم دیا کہ یکّے لاؤ تو اُسی وقت تین یکّے لائے گئے ( اور راستہ بدل کر چل پڑے) تو اُس وقت حضور ؑ نے فرمایا کہ یہ وجہ راستہ بدلنے کی ہے۔تو حضور ؑ کچی سڑک پر قادیان پہنچے اور اِدھر ایک رَتھ حضور ؑ کی خاطر بٹالہ بھیجا گیا تھا تو بجائے حضور ؑ کے سوار ہونے کے اَور لوگ رَتھ میں سوار ہوئے۔ان میں ایک شیخ یعقوب علی صاحبؓ تھے۔جب پُلپر پہنچے تو پُل پر ایک بناوٹی میلہ مخالفوں نے بنارکھا تھا جس میں مسانیاں اور بٹالہ کے مخالف تھے یہ مشورہ کیا کہ جب مرزا صاحب ؑ پُل پر پہنچ گئے تو پُل کے مغربی سمت کے لوگ اور مشرقی سمت کے (لوگ) پُل پر ہی پکڑ لیں گے اور نہر میں ہی پھینک دیں گے …جب بٹالہ سے رَتھ روانہ ہوکر پُل کے قریب آیا تو مخالف حسب ِ مشورہ دَوڑ کر رَتھ پر پڑگئے… حملہ کیا۔جب دیکھا کہ رَتھ مرزا صاحب ؑ سے خالی ہے اور سوار اَور لوگ ہیں تو انہوں نے ابتدائی حملہ کی ضربوں پر افسوس کیا۔(رجسٹر روایاتِ صحابہ غیر مطبوعہ نمبر ۱۰صفحہ ۲۸۰، ۲۸۱) ۱۹۰۵ء (تقریباً) حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے تحریر فرمایا۔’’عرصہ قریباً پانچ سال یا اِس سے زیادہ عرصہ گزرا کہ حضرت صاحب ؑ نے اپنا ایک خواب شائع کیا تھا کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب گھوڑے پر سے گرے ہیں جو کہ ۱۸ ؍ نومبر ۱۹۱۰ء کو بعینہٖ پوری۱؎ہوگئی۔‘‘ (تشحیذ الاذہان جلد ۵نمبر ۱۱ ماہ؍ نومبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۳۹۹) ۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جبکہ حضور اُن دنوں تشحیذ الاذہان کے ایڈیٹر تھے اِس پیشگوئی کے متعلق لکھا۔’’پیشگوئی کا ایسے وقت میں ہونا جب آپ کے پاس کیا، قادیان کے احمدیوں میں سے کسی کے پاس بھی گھوڑا نہ تھا۔پھر اس عرصہ میں حضرت مسیح موعود ؑ کا فوت بھی ہوجانا اور اس پیشین گوئی کا بالکل ظہور نہ ہونا۔پھر کسی شخص کا عزیزم عبدالحی سلّمہ اللہ تعالیٰ کو گھوڑا ہدیۃً پیش کرنا اور خریدا ہوا نہ ہونا۔نواب صاحب کے خود آکر ملنے کے باوجود حضرت مولوی صاحب کا وہاں تشریف لے جانا۔رکابوں کا چھوٹا ہونا اور باوجود کہنے کے آپ کا بچوں کی تکلیف کے خیال سے اُن کے لمبے کرنے