تذکرہ — Page 54
اور لوگوں کے مقدمات فیصل ہورہے ہیں اور ایسا معلوم ہوا کہ بادشاہ کی طرف سے یہ عاجز محافظ د فتر کا عہدہ رکھتا ہے اور جیسے د فتروں میں مثلیں ہوتی ہیں بہت سی مثلیں پڑی ہوئی ہیں اور اس عاجز کے تحت میں ایک شخص نائب محافظ د فتر کی طرح ہے۔اتنے میں ایک اردلی دوڑتا آیا کہ مسلمانوں کی مثل پیش ہونے کا حکم ہے وہ جلد نکالو۔پس یہ رؤیابھی دلالت کررہی ہے کہ عنایاتِ الٰہیہ مسلمانوں کی اصلاح اور ترقی کی طرف متوجہ ہیں اور یقین کامل ہے کہ اس قوتِ ایمان اور اخلاص اور توکل کو جو مسلمانوں کو فراموش ہوگئے ہیں پھر خداوند کریم یاد دلائے گا اور بہتوں کو اپنے خاص برکات سے متمتّع کرے گا کہ ہر یک برکت ظاہری اور باطنی اُسی کے ہاتھ میں ہے۔‘‘ (از مکتوب بنام میر عباس علی صاحب مکتوبات احمد جلد ۱صفحہ ۵۲۸ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱۸۸۳ء چند روز ہوئے کہ خداوند کریم کی طرف سے ایک اور الہام ہوا تھا… ’’۱۔قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُـحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُـحْبِبْکُمُ اللّٰہُ۔۲۔اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِلٰی یَـوْمِ الْقِیَامَۃِ۔۳۔وَقَالُوْا اَنّٰی لَکَ ھٰذَا۔۴۔قُلْ ھُوَاللّٰہُ عَـجِیْبٌ۔۵۔یَـجْتَبِیْ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ۔۶۔وَتِلْکَ الْاَ۔یَّـامُ نُدَاوِلُھَا بَیْنَ النَّاسِ۔؎۱ اور یہ آیت کہ وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِلٰی یُوْمِ الْقِیَامَۃِ بار بار الہام ہوئی اور اس قدر متواتر ہوئی کہ جس کا شمار خدا ہی کو معلوم ہے اور اس قدر زور سے ہوئی کہ میخ فولادی کی طرح دل کے اندر داخل ہے اس سے یقیناً معلوم ہواکہ خداوند کریم اُن سب دوستوں کو جو اس عاجز کے طریق پر قدم ماریں بہت سی برکتیں دے گا اوران کو دوسرے طریقوں کے لوگوں پر غلبہ بخشے گا اور یہ غلبہ قیامت تک رہے گا اور اس عاجز کے بعد کوئی ایسا مقبول آنے والا نہیں جو اس طریق کے مخالف قدم مارے اور جو مخالف قدم مارے گا اُس کو خدا تباہ کرے گا اور اُس کے سلسلہ کو پائیداری نہیں ہوگی۔یہ خدا کی طرف سے وعدہ ہے جو ہرگز تخلّف نہیں کرے گا۔‘‘ (از مکتوب بنام میر عباس علی صاحب۔مکتوبات احمد جلد اوّل صفحہ۵۳۴ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱ (ترجمہ از مرتّب) ۱کہہ اگر تم خدا سے محبت رکھتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے محبت رکھے۔۲میں تجھے وفات دوں گا اور تجھے اپنی طرف اُٹھاؤں گا اور میں تیرے تابعین کو تیرے منکروں پر قیامت تک غالب رکھوں گا۔۳لوگ کہیں گے کہ یہ مقام تجھے کہاں سے حاصل ہوا۔۴کہہ وہ خدا عجیب ہے۔۵جس کو چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے چُن لیتا ہے۔۶ اور یہ دن ہم لوگوں میں پھیرتے رہتے ہیں۔