تذکرہ — Page 746
۱۸۸۶ء میاں عبداللہ صاحبؓ سنوری نے بیان کیا۔’’ہوشیار پور سے پانچ چھ میل کے فاصلہ پر ایک بزرگ کی قبر ہے…حضور ؑ قبر کی طرف تشریف لے گئے … اور تھوڑی دیر تک دعا فرماتے رہے۔پھر …فرمایا۔جب مَیں نے دُعا کے لئے ہاتھ اُٹھائے تو جس بزرگ کی یہ قبر ہے وہ قبر سے نکل کر دو زانو ہوکر میرے سامنے بیٹھ گئے اور اگر آپ۱؎ ساتھ نہ ہوتے تو مَیں اُن سے باتیں بھی کرلیتا۔ان کی آنکھیں موٹی موٹی ہیں اور رنگ سانولا ہے۔پھر کہا کہ دیکھو اگر یہاں کوئی مجاور ہے تو اُس سے ان کے حالات پوچھیں چنانچہ حضور ؑ نے مجاور سے دریافت کیا۔اُس نے کہا مَیں نے ان کو خود نہیں دیکھا کیونکہ ان کی وفات کو قریباً ایک سو سال گزر گیا ہے۔ہاں اپنے باپ یا دادا سے سنا ہے کہ یہ اِس علاقہ کے بڑے بزرگ تھے اور اِس علاقہ میں ان کا بہت اثر تھا۔حضور ؑنے پوچھا، ان کا حلیہ کیا تھا؟ وہ کہنے لگا کہ سنا ہے سانولہ رنگ تھا اور موٹی موٹی آنکھیں تھی۔‘‘ ( سیرت المہدی مؤلفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم۔اے، جلد ۱ روایت نمبر ۸۸ صفحہ۶۴، ۶۵ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱۸۸۶ء میاں عبداللہ صاحبؓ سنوری نے بیان کیا۔’’پسرِ موعود کی پیشگوئی کے بعد حضرت صاحب ؑ ہم سے کبھی کبھی کہا کرتے تھے کہ دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ ہم کو جلد وہ موعود لڑکا عطا کرے۔اُن دنوں میں حضرت کے گھر اُمید واری تھی۔ایک دن بارش ہوئی تو مَیں نے مسجد مبارک کے اُوپر صحن میں جاکر بڑی دُعا کی…پھر مجھے دُعاکرتے کرتے خیال آیا کہ باہر جنگل میں جاکر دُعا کروں…چنانچہ مَیں قادیان سے مشرق کی طرف چلا گیا اور باہر جنگل میں بارش کے اندر بڑی دیر تک سجدہ میں دُعا کرتا رہا… اُسی دن شام یا دوسرے دن صبح کو حضرت صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ ’’اُن کو کہہ دو اُنہوں نے رنج بہت اُٹھایا ہے ثواب بہت ہوگا۔‘‘ ( سیرت المہدی مؤلفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم۔اے، جلد ۱ روایت نمبر ۱۱۰ صفحہ ۸۹ مطبوعہ ۲۰۰۸ء ) مئی۱۸۸۶ء ’’ لَیْسَ الذَّکَرُ کَا لْاُنْثٰی‘‘۲؎ (البشریٰ قلمی نسخہ مرتبہ پیر سراج الحق صاحب نعمانیؓ صفحہ ۷۱۔مکتوب از صاحبزادہ پیر سراج الحق صاحب نعمانی ؓ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دست ِمبارک کے لکھے ہوئے الہامات میں سے ) ۱ اِس سے مراد میاں عبداللہ صاحب سنوری ؓ ہیں۔(شمس) ۲ (ترجمہ) اس لڑکی کے جیسے بعض مرد بھی نہیں۔(نوٹ) یہ الہام صاحبزادی عصمت کی پیدائش پر ہوا تھا۔( البشریٰ قلمی نسخہ مرتبہ پیر سراج الحق صاحب نعمانی ؓصفحہ ۷۱ حاشیہ نمبر ۴)