تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 52 of 1089

تذکرہ — Page 52

۱۸۸۳ء ’’ آنمخدوم کی تحریرات کے پڑھنے سے بہت کچھ حالِ صداقت و نجابت ِ آنمخدوم ظاہر ہوتا ہے اور ایک مرتبہ بنظرِ کشفی بھی کچھ ظاہر ہوا تھا۔شاید کسی زمانہ میں خداوند کریم اس سے زیادہ اور کچھ ظاہر کرے۔‘‘ (از مکتوب بنام میر عباس علی صاحب۔مکتوبات احمد جلد اوّل صفحہ۵۱۴ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱۸۸۳ء ’’ جس روز آپ کا خط آیا اسی روز بعض عبارتیں آپ کے خط کی کسی قدر کمی بیشی سے بصورت کشفی ظاہر کی گئیں اور وہ فقرات زیادہ آپ کے دل میں ہوں گے۔یہ خداوند کریم کی طرف سے ایک رابطہ بخشی ہے۔‘‘ (از مکتوب بنام میر عباس علی صاحب۔مکتوبات احمد جلد اوّل صفحہ۵۱۵ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱۸۸۳ء ؎۱ ’’وقت ملاقات ایک گفتگو کے اثناء میں بنظر کشفی آپ کی حالت ایسی معلوم ہوئی کہ کچھ دل میں انقباض؎۲ ہے۔اور نیز آپ کے بعض خیالات جو آپ بعض اشخاص کی نسبت رکھتے تھے۔حضرت احدیت کی نظر میں درست نہیں تو اس پر یہ الہام ہوا۔قُلْ ھَا تُوْا بُرْھَا نَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ ؎۳ …اس وقت یہ بیان کرنا مناسب نہیں سمجھا گیا مگر بہت ہی سعی کی گئی کہ خداوند کریم اس کو دور کرے مگر تعجب نہیں کہ آئندہ بھی کوئی ایسا انقباض پیش آوے۔جب انسان ایک نئے گھر میں داخل ہوتا ہے تو اس کے لئے ضرور ہے کہ اس گھر کی وضع قطع میں بعض اُمور اُس کو حسب مرضی اور بعض خلاف مرضی معلوم ہوں اس لئےمناسب ہے کہ آپ اس محبت کو خدا سے بھی چاہیں اور کسی نئے امر کے پیش آنے میں مضطرب نہ ہوں تا یہ محبت کمال کے درجہ تک پہنچ جائے۔یہ عاجز خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک حالت رکھتا ہے جو زمانہ کی رسمیات سے ۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) کتاب حیات احمد جلد ۲ حصہ دوم صفحہ ۲۱۶،۲۱۷ مطبوعہ ۲۰۱۳ء سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اوائل۱۸۸۳ء کا مکاشفہ ہے۔وَاللہُ اَعْلَمُ۔۲ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) اس کشف کے مطابق میر عباس علی صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ مسیحیت و مہدویت کے وقت برگشتہ ہوگئے اور اس حالت پر اُن کا انجام ہوا۔اس مکتوب کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۲۲؍ستمبر۱۸۸۳ء کے مکتوب میں بھی اُنہیں اس آنے والے ابتلاء سے آگاہ کیا تھاجس کے الفاظ یہ ہیں۔’’خدا وند کریم آپ کی تائید میں رہے اور مکر وہاتِ زمانہ سے بچاوے۔اس عاجز سے تعلق اور ارتباط کرنا کسی قدر ابتلاء کو چاہتا ہے سو اس ابتلاء سے آپ بچ نہیں سکتے۔‘‘ (از مکتوب بنام میر عباس علی صاحب مکتوبات احمد جلد ۱ صفحہ ۵۷۱ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۳ (ترجمہ از مرتّب) کہہ اگر تم سچے ہو تو اپنی دلیل لاؤ۔