تذکرہ — Page 735
اِنِّیْ بَرَآءٌ مِّنْ ذَالِکَ۱؎۔(یہ کسی کا مقولہ ہے) اور پھر الہام ہوا کَتَبَ اللّٰہُ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْـمَۃَ۔حَقٌّ عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ۔اور پھر الہام ہوا اَمْثَالُ الرَّحْـمَۃِ فِیْ اَوَّلِ الذِّکْرِوَاٰخِرِالذِّکْرِ۲؎۔یعنی دو شخص کی نسبت جو بیمار تھے دعا کی گئی ان کی نسبت رحمت کا نمونہ ہے۔اور پھر الہام ہوا۔رحمت اور فضل کا مقام۔شکر کا مقام۳؎۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام موصولہ صفحات از فیملی ڈاکٹر شاہ نواز صاحب پسر حضرت چوہدری مولیٰ بخشؓ) ۱۰؍ اپریل۱۹۰۸ء ’’ ۱۔کَتَبَ اللّٰہُ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْـمَۃَ۔۲۔حَقٌّ عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ۴؎۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۲۸) ۱۱؍ اپریل۱۹۰۸ء ’’ دوبارہ زندگی ‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۲۸) ۱۲؍ اپریل۱۹۰۸ء ’’ ۱۔منسوخ شدہ زندگی۔۲۔اِنِّیْ بَرَآءٌ مِّنْ ذَالِکَ۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۲۸) ۱۸؍ اپریل۱۹۰۸ء ’’ ۱۔اِنَّـا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا۔۲۔فَـحَقَّ الْعَذَابُ وَ تَدَ لّٰی۔۳۔زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ ۴۔فَـحَقَّ الْعَذَابُ وَ تَدَ لّٰی۔‘‘۵؎ (کاپی الہامات۶؎ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۲۹) ۱ (ترجمہ از ناشر) یقیناً مَیں اِس سے بیزار ہوں۔۲ (ترجمہ از ناشر) اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر رحمت کرنا فرض کرلیا ہے۔مومنوں کی مدد کرنا ہم نے اپنے اوپر فرض کرلیا ہے۔رحمت کے نمونے ذکر کے اوّل میں اور ذکر کے آخر میں۔۳ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۱۶؍اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۲ اور البشریٰ قلمی نسخہ مرتّبہ حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانیؓ صفحہ ۱۴۶ پر بھی الہام ’’رحمت اور فضل کا مقام۔شکر کا مقام‘‘ درج ہے۔۴ (ترجمہ از ناشر) ۱۔اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر رحمت کرنا فرض کرلیا ہے۔۲۔مومنوں کی مدد کرنا ہم نے اپنے اوپر فرض کیا ہوا ہے۔۵ (ترجمہ از مرتّب) ۱۔ہم نے تجھے کھلی فتح دی ہے۔۲۔پس عذاب واقع ہوگا اور اتر آئے گا۔۳۔زمین پر زلزلہ آئے گا۔۴۔پس عذاب واقع ہوگا اور اُتر آئے گا۔۶ (نوٹ از ناشر) الحکم مورخہ ۲۲؍اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۱ میں بھی یہ الہامات ترتیب کے اختلاف سے درج ہیں۔