تذکرہ — Page 728
۷۔لَوْ رُفِعَ الْـحِـجَابُ لَمَا ازْدَدْتُّ یَقِیْنًا۔۸۔صَنَعَ اللہُ صَنَائِعَ وَ اٰخِرُھَا الْاِنْسَانُ۱؎۔۹۔نَصَـرَکُمُ اللّٰہُ نَصْـرًا مُّؤَزَّرًا۔۲؎ ۱۰۔یَـااَیُّـھَا النَّبِیُّ اَطْعِمُوا الْجَآئِعَ وَالْمُعْتَرَّ۔‘‘۳؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۱، ۲۲) (ب) ’’ اِنِّیْ مَعَکَ یَا اِبْرَاھِیْمُ۔‘‘۴؎ ( بدر جلد۷نمبر ۳مورخہ ۲۳؍ جنوری۱۹۰۸ء صفحہ۴۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۶ مورخہ ۲۲؍ جنوری۱۹۰۸ء صفحہ ۱۰) ۵؍ جنوری۱۹۰۸ء ’’مرحوم امیر خاں کی بیوہ جس دن اُس کا خاوند فوت ہوا، مَیں نے دیکھا کہ اُس بیوہ کی پیشانی پر ۵ یا ۶ یا ۷ کا عدد لکھا ہوا ہے مَیں نے وہ مٹادیا اور اس کی جگہ اس کی پیشانی پر۶ کا عدد لکھ دیا ہے۔‘‘۵؎ ( بدر جلد۷نمبر ۳ مورخہ ۲۳؍ جنوری۱۹۰۸ء صفحہ۴۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۶ مورخہ ۲۲؍ جنوری۱۹۰۸ء صفحہ ۱۰) ۱ (ترجمہ از ناشر) ۷۔اگر حجاب اٹھا بھی دیا جاتا تو میرے یقین میں کوئی خاص اضافہ نہ ہوتا۔۸۔اللہ تعالیٰ نے بہت سے مصنوعات بنائیں اور ان میں سے سب سے اعلیٰ صنعت انسان ہے۔۲ (ترجمہ) ۹۔مدد کی اللہ تعالیٰ نے تمہاری مؤیّدانہ مدد (بدر مورخہ ۲۳؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۴) ۳ (ترجمہ از مرتّب) ۱۰۔اے نبی! بھوکوں اور محتاجوں کو کھانا کھلاؤ ۴ (ترجمہ) میں تیرے ساتھ ہوں اے ابراہیم! (بدر مورخہ ۲۳؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۴) ۵ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) امیر خاں صاحب مرحوم پیر منظور محمد صاحب موجد قاعدہ یسر نا القرآن کی بیوی کے رشتہ میں بھائی تھے جن کے ساتھ محمد اکبر خان صاحب مرحوم کی دختراصغری بیگم صاحبہ بیاہی گئی تھیں۔اُن کی وفات کے بعد اصغری بیگم صاحبہ میاں مدد خاں صاحب کے عقد میں آئیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اِس بشارت کے ماتحت اُن کے چھ بچے ہوئے جن کے نام حسب ِ ذیل ہیں۔راجہ محمد عبداللہ خان صاحب، راجہ محمد یعقوب خان صاحب (کارکن صدر انجمن احمدیہ)، محمد داؤد صاحب، محمد الیاس صاحب، زینب اور عائشہ۔اصغری بیگم صاحبہ اپنے والدین کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر کے ایک حصّہ میں رہتی تھیں اور اُن کی والدہ مرحومہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت کرتی تھیں۔