تذکرہ — Page 710
۱۲۔اَرَدْتُّ لَکَ فَضْلًا کَثِیْرًا وَّ اِحْسَانًا عَلَی الْاِحْسَانِ۔۱۳۔مخالفوں کا اخزاء اور افناء تیرے ہاتھ سےہی مقدر تھا۔۱۴۔مخالفوں کا اخزاء اور افناء تیرے ہاتھ سےہی مقدر تھا۔۱۵۔اَنْتَ مِنِّیْ بِـمَنْزِلَۃِ ھَارُوْنَ۔۱۶۔اَنْتَ مِنِّیْ بِـمَنْزِلَۃِ ھَارُوْنَ۱؎۔۱۷۔اِنِّیْ اَنَـا رَبُّکَ الرَّحْـمٰنُ ذُوالْعِزِّ وَالسُّلْطَانِ۔۱۸۔اِنِّیْ اَنَـا رَبُّکَ الرَّحْـمٰنُ ذُوالْعِزِّ وَالسُّلْطَانِ۔۱۹۔اَنْتَ مِنِّیْ بِـمَنْزِلَۃِ رَحَی الْاِسْلَامِ۔۲۰۔اَنَـرْتُکَ وَاخْتَرْتُکَ۔۲۱۔مخالفوں کا اخزاء اور افناء تیرے ہی ہاتھ سے مقدر تھا۔۲۲۔اِنَّ اللّٰہَ مَعِیْ فِیْ کُلِّ حَالٍ۲؎۔۲۳۔ہر یک حال میں تمہارے ساتھ موافق ہوں تیرے منشا کے مطابق۔۲۴۔کُلَّ یَــوْمٍ ھُـوَ فِیْ شَاْنٍ۳؎۔۲۵۔اَحْبَبْتُ اَنْ اُعْرَفَ۴؎۔۲۶۔اِنِّیْ اَنَـا الرَّحْـمٰنُ ذُوالْعِزِّ وَالسُّلْطَانِ۔‘‘۵؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۴ تا ۷) ۳۰؍ ستمبر۱۹۰۷ء ’’۱۔اَنْتَ مِنِّیْ بِـمَنْزِلَۃِ رَحَی الْاِسْلَامِ ۲۔اَنَرْتُکَ وَاخْتَرْتُکَ۔۳۔اِنَّ اللّٰہَ مَعِیْ فِیْ کُلِّ حَالٍ۔۶؎ ۴۔ہر ایک حال میں تمہارے ساتھ مَیں ہوں، تیری منشاء کے مطابق۔۵۔کُلَّ یَـوْمٍ ھُوَ فِیْ شَاْنٍ۔۷؎ (یعنی ہمیشہ موافقت کرنا لازمی امر نہیں۔ابتلاء بھی درمیان ہیں) ۶۔اَحْبَبْتُ اَنْ اُعْرَفَ۔۷۔اِنِّیْ اَنَـا رَبُّکَ الرَّحْـمٰنُ ذُوالْعِزِّ وَالسُّلْطَانِ۔۸؎ ۸۔اَنْتَ مِنِّیْ بِـمَنْزِلَۃِ عَرْشِیْ۔۹اَنْتَ مِنِّیْ بِـمَنْزِلَۃِ ھَارُوْنَ۔۹؎ (یعنی تو میرے دین کی نصرت کرتا ہے جیسے ہارون موسیٰ کی نصرت کرتا تھا)۔۱ (ترجمہ از ناشر) ۱۲۔میں نے تم پر فضل کثیر اور احسان پر احسان کا ارادہ کیا۔۱۵۔تو میرے نزدیک بمنزلہ ہارون کے ہے۔۱۶۔تو میرے نزدیک بمنزلہ ہارون کے ہے۔۲ (ترجمہ ) ۱۷۔مَیں تیرا ربّ رحمٰن ہوں صاحب عزت کا اور صاحب غلبہ کا۔۱۸۔مَیں تیرا ربّ رحمٰن ہوں صاحب عزت کا اور صاحب غلبہ کا۔۱۹۔تو مجھ سے بمنزلہ اسلام کی چکی کے ہے۔۲۰۔مَیں نے تجھے روشن کیا اور تجھے پسند کیا۔۲۲۔خدا ہر حال میں میرے ساتھ ہے۔(بدر مورخہ ۳؍ اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۳) ۳ (ترجمہ از مرتّب) ۲۴۔ہر روز وہ ایک نئی شان میں ہوتا ہے۔۴ (ترجمہ) ۲۵۔مَیں نے چاہا کہ مَیں پہچانا جاؤں۔(بدر مورخہ ۳؍ اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۳) ۵ (ترجمہ از ناشر) ۲۶۔مَیں رحمٰن ہوں صاحب عزت کا اور صاحب غلبہ کا۔۶ (ترجمہ) ۱۔تو مجھ سے بمنزلہ اسلام کی چکی کے ہے۔۲۔مَیں نے تجھے روشن کیا اور تجھے پسند کیا۔۳۔خدا ہر حال میں میرے ساتھ ہے۔۷ (ترجمہ از ناشر) ۵۔ہر روز وہ ایک نئی شان میں ہوتا ہے۔۸ (ترجمہ ) ۶۔مَیں نے چاہا کہ مَیں پہچانا جاؤں۔۷۔مَیں تیرا ربّ رحمٰن ہوں صاحب عزت کا اور صاحب غلبہ کا۔(بدر مورخہ ۳؍اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۳) ۹ (ترجمہ از ناشر) ۸۔تُو میرے نزدیک بمنزلہ میرے عرش کے ہے۔۹۔تو میرے نزدیک بمنزلہ ہارون کے ہے۔