تذکرہ — Page 687
۲۰؍ اپریل ۱۹۰۷ء (الف) ’’میں نے دیکھا کہ گویا میں اپنی بڑی مسجد میں ہوں اور میرے پاس بشیر ہے اور وہ مجھے کہتا ہے کہ زلزلہ اس طرف گیا ہے اور مشرق اور گوشہ ٔ شمال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔اور پھر کچھ الفاظ زبان پر جاری ہوئے۔شاید یہ ہیں۔یَـوْمَئِذٍ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ۔‘‘۱؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۹۱) (ب) ’’صبح کے وقت الہام ہوا۔اوّل خواب میں دیکھا کہ گویا مَیں بڑی مسجد (میں ) ہوں۔بشیر احمد میرا لڑکا میرے پاس ہے۔وہ مشرق اور کچھ شمال کی طرف اشارہ کرکے کہتا ہے۔اس طرف زلزلہ گیا۲؎ ہے اور مجھے زلزلہ آنے سے پہلے الہام ہوا۔اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ۳؎ اور پھر الہام ہوا۔مَظْھَرُالْـحَقِّ وَ الْعَلٰی یعنی وہ ایسا امر ہوگا جس سے حق کھلے گا اور حق ظاہر ہوگا۔‘‘ ( مکتوب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بنام چوہدری مولا بخش صاحب ؓ۔غیر مطبوعہ۴؎) ۲۱؍ اپریل ۱۹۰۷ء ’’۱۔سَاُرِیْکُمْ اٰیَـاتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ۔۵؎ ۲۔یہ دو گھرہی مَر گئے۔۶؎ ۱ (ترجمہ از ناشر) اس دن میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا۔۲ (نوٹ از مرتّب) یہ زلزلہ ۱۵ ؍ جنوری ۱۹۳۴ء کو صوبہ بہار میں آیا۔تفصیل کے لئے دیکھئے ٹریکٹ ’’ ایک اَور تازہ نشان‘‘ صفحہ ۲۴۔نوشتہ حضرت صاحبزادہ میرزا بشیر احمد صاحب ؓ ایم۔اے۔ناشر چوہدری اللہ بخش مطبع اللہ بخش سٹیم پریس قادیان۔مارچ ۱۹۳۴ء۔۳ (ترجمہ) میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا۔(بدر مورخہ ۱۱؍اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۴) ۴ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) یہ مکتوب میجر ڈاکٹر شاہ نواز صاحب کے پاس ہے جو خاکسار نے دیکھا۔ڈاکٹر صاحب کا بیان ہے کہ یہ مکتوب انہیں اپنے والد چودھری مولا بخش صاحبؓ سے ملا۔(نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۲؍مئی ۱۹۰۷ء صفحہ ۱ اور الحکم مورخہ ۳۰؍اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۴ میں یہ رؤیا بایں الفاظ درج ہے۔’’ رؤیامیں دیکھا کہ بشیر احمد کھڑا ہے۔وہ ہاتھ سے شمال مشرق کی طرف اشارہ کرکے کہتا ہے کہ زلزلہ اس طرف چلا گیا۔‘‘ ۵ (ترجمہ) ۱۔قریب ہے میں تمہیں اپنے نشان دکھلاؤں گا پس تم جلدی نہ کرو۔(بدر مورخہ ۲۵ ؍ اپریل۱۹۰۷ء صفحہ ۴) ۶ (نوٹ از بدر) اس میں خاص دو گھروںکی طرف اشارہ ہے۔(بدر مورخہ ۲۵ ؍ اپریل۱۹۰۷ء صفحہ ۴ )