تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 683 of 1089

تذکرہ — Page 683

دَوْلَۃُ الْاِعْلَامِ بِذَ رِیْعَۃِ الْاِلْہَامِ۔‘‘۱؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۶۶، ۶۴) ۴؍ اپریل۱۹۰۷ء الہام۔’’۱۔لائف آف پین۲؎۔۲۔یا اللہ رحم کر۔یا اللہ رحم کر۔۳۔اِنَّ عِیْسٰی وُقِفَ عَلَیْـھَا۔۳؎ ۴۔اِنِّیْ مَعَ اللّٰہِ فِیْ کُلِّ حَالٍ۔اِنِّیْ مَعَ اللّٰہِ فِیْ کُلِّ حَالٍ ۵۔اِخْتَرَطْنَا سَیْفَہٗ۔۶۔خدا کے نکو کار بندے سات ہر جگہ پر بیٹھے ہوئے ہیں۴؎۔۷۔اَلَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْکُمْ فِی السَّبْتِ۔۵؎ ۸۔اَلَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیَامًا وَّقُعُوْدًا۔۹۔اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا۔۱۰۔رَحِـمَ اللّٰہُ۔۱۱۔مُتْ۶؎ اَیُّـھَا الْـخَوَّانُ۔۷؎ ۱۲۔تَـمَّتْ کَلِمَۃُ اللّٰہِ۔یعنی پوری ہوگئی خدا کی بات۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۶۳، ۶۰، ۵۹) ۱ (ترجمہ از ناشر) دولت اعلام بذریعہ الہام ۲ Life of pain (ترجمہ) تلخ زندگی۔۳ (ترجمہ از ناشر) ۳۔یقیناً عیسیٰ اسی موقف پر قائم رکھا گیا۔۴ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۱۱؍اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۴ اور الحکم مورخہ ۱۰؍اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۲ میں یہ الہام یوں درج ہے۔’’خدا کے سات نکوکار بندے ہر جگہ پر بیٹھے ہیں۔‘‘ ۵ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۱۱؍اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۴ اور الحکم مورخہ ۱۰؍اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۲ میں الہام نمبر۷تا ۱۲ مورخہ ۵؍اپریل ۱۹۰۷ء کے تحت ترتیب کے اختلاف سے درج ہیں نیز الہام ’’ اَ لَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْکُمْ فِی السَّبْتِ‘‘کے تحت تحریر ہے کہ ’’یہ قوم مخالف کی طرف اشارہ ہے۔ساتھ کا فقرہ بھول گیا۔وَاللہُ اَعْلَمُ۔‘‘ ۶ (ترجمہ) ۴۔مَیں ہر حال میں اللہ کے ساتھ ہوں۔مَیں ہر حال میں اللہ کے ساتھ ہوں۔۵۔ہم نے اس کی تلوار کو کھینچا۔۷۔وہ لوگ جنہوں نے (تم میں سے ) سبت کے معاملہ میں زیادتی کی۔۸۔وہ جو اللہ کو یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے۔۹۔اللہ تعالیٰ اُن کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کریں۔۱۰۔اللہ نے رحم کیا۔۱۱۔مر اے خیانت کرنے والے۔(بدر مورخہ ۱۱؍اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۴) ۷ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی ؓ کی روایت ہے کہ یہ الہام ایڈیٹر اخبار شُبھ چنتک قادیان کے متعلق تھا۔لکھتے ہیں کہ ’’آریوں میں طاعون پھوٹی۔جس کو طاعون ہوتی مَیں اور شیخ یعقوب علی صاحب اسے دیکھنے جاتے اور سب آریہ کارکن اخبار مذکور کے جو تھے مَر گئے صرف مالک اخبار بچ رہا۔پھر اُسے بھی طاعون ہوئی… پھر وہ ذرا اچھا ہوگیا…(حضورؑ کو جب اس کا علم ہوا تو فرمایا) اَب جا کر دیکھو۔مَیں اور شیخ صاحب اس وقت گئے تو چیخ پکار ہورہی تھی اور وہ مر چکا تھا۔‘‘ (رجسٹر روایاتِ صحابہ غیر مطبوعہ نمبر ۱۳ صفحہ ۳۴۹)