تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 677 of 1089

تذکرہ — Page 677

۲۔(رؤیا) میری بیوی نے خواب میں مجھے کہا کہ ’’مَیں نے خدا کی مرضی کے لئے اپنی مرضی چھوڑ دی ہے۔میں نے جواب دیا کہ اسی سے تو تم پر حُسن چڑھا ہے۔‘‘۱؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۸۵) ۲۱؍ مارچ۱۹۰۷ء ’’ ۱۔لا ولد۔۲۔قہر الٰہی کی تجلّی۔۳۔اَدْ رِکِ الْوَقْتَ۔‘‘۲؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۸۴) ۲۴؍ مارچ۱۹۰۷ء ’’ ۱۔وَ لَدَارُ الْاٰخِرَۃِ خَیْرٌ لَّکَ مِنَ الْاُوْلٰی۔۳؎ ۲۔وَ لَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِيْ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُوْنَ۔۴؎ ۳۔لاکھوں آدمی تہہ و بالا کردوں گا۔۵؎ ۴۔وَ اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ۶؎ ۵۔اَخَذْ تُ الشَّوْکَ۔۷؎ ۶۔اَرَدْتُّ زَمَانَ الزَّلْزَلَۃِ۔۸؎ لاکھوں آدمی تہہ و بالا کردوں گا۔وَ اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ ‘‘۱؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۸۳، ۸۲) بقیہ حاشیہ۔بڑے زلازل کا ارادہ کیا ہے یہ ان میں سے ایک ہے جس کا وقت قریب۹؎ آگیا ہوا معلوم ہوتا ہے۔‘‘ ۱ (نوٹ از بدر) بدر مورخہ۲۸ ؍ مارچ۱۹۰۷ءصفحہ ۳ والحکم مورخہ ۳۱؍ مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ۱ میں اس فقرہ کے ضمن میں تحریر ہے کہ ’’ یہ فقرہ اس فقرہ سے مشابہ ہے جو زبور میں ہے کہ تو حسن میں بنی آدم سے کہیں زیادہ ہے۔‘‘ ۲ (ترجمہ از ناشر) وقت کو پالے۔۳ (ترجمہ) ۱۔اور البتہ آخرت کا گھر تیرے لئے اس دُنیا کی نسبت بہت بہتر ہے۔(بدر مورخہ ۲۸؍مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۳) ۴ (ترجمہ از ناشر) ۲۔اور اس میں تمہارے لئے وہ سب کچھ ہوگا جس کی تمہارے نفس خواہش کرتے ہیں اور اس میں تمہارے لئے وہ سب کچھ ہوگا جو تم طلب کرتے ہو۔۵ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۲۸؍ مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۳ اور الحکم مورخہ ۳۱؍ مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۱ میں یہ الہامات یوں درج ہیں۔’’لاکھوں انسانوں کو تہ و بالا کردوں گا۔اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ۔‘‘ ۶ (ترجمہ) ۴۔مَیں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۰۷) ۷ (ترجمہ از ناشر) ۵۔میں مسلح ہوگیا ہوں۔۸ (ترجمہ) ۶۔مَیں نے ارادہ کیا ہے کہ زلزلہ کا زمانہ آجاوے۔( بدر مورخہ ۲۱؍مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۳) ۹ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) چنانچہ ’’۱۲ اور۱۳؍ اپریل کی درمیانی شب کو ۱۲بجے کے قریب پنجاب کے اکثر مقامات میں زلزلہ آیا … ۱۴؍اپریل ۱۹۰۷ء کو میکسیکو میں خطرناک زلزلہ آیا۔چلپان، سنگو اور جلاپہ کے شہر برباد ہوگئے۔‘‘ (الحکم مورخہ۲۴؍ اپریل۱۹۰۷ءصفحہ۶)