تذکرہ — Page 664
(ب) ’’ کُلُّ الْفَتْحِ بَعْدَہٗ۔‘‘۱؎ (بدر جلد ۶ نمبر ۸ مورخہ ۲۱؍فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۳۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۷ مورخہ ۲۴؍ فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱) ۱۹؍ فروری۱۹۰۷ء ’’۱۔افسوسناک خبر آئی۔۲۔ہم خدا کے بندے ہیں جیسے بنایا بن گئے۔۳۔اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ۔۲؎ ۴۔پسپاشد ہجوم۔۵۔اور بہتر ہوگا کہ اَور شادی کرلیں۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۲۶، ۱۲۵) بقیہ حاشیہ۔جانے کی وجہ سے لوگ یہ نہ سمجھیں کہ یہ منسوخ ہوگئی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ کُلُّ الْفَتْحِ بَعْدَہٗ کہ اِس نشان کے بعد اصل فتوحات ہوں گی۔پھر آگے اسی سلسلہ میں یہ الہام ہے کہ اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ وَ اَلُوْمُ مَنْ یَّلُوْمُ۔اِس میں بتایا گیا ہے کہ جب اِس پیشگوئی کا ظہور ہوگا تو چاروں طرف سے دشمن حملہ کرے گا چنانچہ اس طرف مجھ پر اِس پیشگوئی کا انکشاف ہوا اور اُدھر پیغامیوںنے مخالفت کی آگ پورے زور کے ساتھ بھڑکا دی اور طرح طرح کے اتہامات، جھوٹ اور کذب بیانیوں سے کام لینا شروع کردیا مگر ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتادیا تھا کہ ’’پسپاشُدہ ہجوم۔‘‘ اس کامفہوم وہی ہے جو قرآن کریم کی آیت سَیُھْزَمُ الْـجَمْعُ وَ یُـوَلُّوْنَ الدُّ۔بُـرَ۔(القمر:۴۶) کا ہے۔یعنی سب دشمن جمع ہو کر حملہ کریں گے مگر اللہ تعالیٰ ان کو ذلیل و رُسوا کرے گا اور وہ شکست کھاجائیں گے۔یہ الہام اس دوسرے الہام سے جو پسر موعود کے متعلق ہے بہت ملتا ہے کہ جَآءَ الْـحَقُّ وَ زَھَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقًا۔یعنی جب پسرموعود ظاہر ہوگا تو حق آجائے گا اور باطل بھاگ جائے گا۔باطل تو بھاگنے ہی کی اہلیت رکھتا ہے۔‘‘ (الفضل مورخہ یکم اگست۱۹۴۴صفحہ۳، ۴) ۱ (ترجمہ ) سب فتح اس کے بعد ہے۔(بدر مورخہ ۲۱؍فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۳ ) (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۲۱؍فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۳ اور الحکم مورخہ ۲۴؍ فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱ میں الہامات مع تفصیل یوں درج ہیں۔’’ کُلُّ الْفَتْحِ بَعْدَ ہٗ۔مَظْھَرُ الْـحَقِّ وَالْعَلٰی کَاَنَّ اللّٰہَ نَـزَلَ مِنَ السَّمَآء۔‘‘ یعنی ایک نشان ظاہر ہوگا جو تمام فتوحات کا مجموعہ ہوگا اور اس وقت حق ظاہر ہوجائے گا اور حق کا غلبہ ہوگا گویا خدا آسمان سے اترے گا۔۲ (ترجمہ ) ۳۔مَیں اپنے رسول کے ساتھ کھڑاہوں گا۔(بدر مورخہ ۲۱؍فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۳)