تذکرہ — Page 654
ھٰذَا الْوَقْتِ قِصَّۃُ رَجُلٍ مَّاتَ فِیْ ذِی الْقَعْدَ۔ۃِ۔وَکَانَ یَلْعَنُنِیْ وَیَسُبُّنِیْ۔وَکَانَ اسْـمُہٗ سَعْدَ اللّٰہِ۔وَکَانَ سَبُّہٗ کَالصَّعْدَ ۃِ۔وَاِذَا بَلَغَ شَتْمُہٗ اِلٰی مُنْتَـھَاہُ وَ سَبَقَ فِی الْاِیْذَآءِ کُلَّ مَنْ سِوَاہُ اَوْحٰٓی اِلَیَّ رَبِّیْ فِیْٓ اَمْرِ مَوْتِہٖ وَخِزْیِہٖ وَقَطْعِ نَسْلِہٖ بِـمَا قَضَاہُ وَقَالَ اِنَّ شَانِئَکَ ھُوَالْاَ۔بْتَرُ۔فَاَشَعْتُ بَیْنَ النَّاسِ مَآ اَوْحٰی رَبِّیَ الْاَکبَرُ۔ثُمَّ بَعْدَ ذٰلِکَ صَدَّ۔قَ اللّٰہُ اِلْھَامِیْ۔فَاَرَدْتُّ اَنْ اُفَصِّلَہٗ فِیْ کَلَامِیْ۔وَاُشِیْعَ مَا صَنَعَ اللّٰہُ بِذَ۔الِکَ الْفَتَّانِ۔وَعَدُ۔وِّ عِبَادِاللّٰہِ الرَّحْـمٰنِ۔فَـمَنَعَنِیْ مِنْ ذٰلِکَ وَکِیْلٌ کَانَ مِنْ جَـمَاعَتِیْ وَخَوَّفَنِیْ مِنْ اِرَادَۃِ اِشَاعَتِیْ۔وَقَالَ لَوْاَشَعْتَھَا لَا تَـاْ مَنُ جَـمَاعَتِیْ وَخَوَّفَنِیْ مِنْ اِرَادَۃِ اِشَاعَتِیْ۔وَقَالَ لَوْ اَشَعْتَھَا لَا تَـاْ مَنُ مَقْتَ الْـحُکَّامِ، وَ یَـجُرُّکَ الْقَانُوْنُ اِلَی الْاَثَامِ، وَ لَا سَبِیْلَ اِلَی الْـخَلَاصِ۔وَلَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ، وَ تَلْزَمُکَ الْمَصَآئِبُ مُلَازَمَۃَ الْغَرِیْمِ۔وَالْمَآلُ مَعْلُوْمٌ بَعْدَ التَّعَبِ الْعَظِیْمِ۔وَلَیْسَتِ الْـحُکُوْمَۃُ تَـارِکَ الْمُجْرِمِیْنَ۔فَالْـخَیْرُ فِیْ اِخْفَآءِ ھٰذَا الْوَحْیِ کَالْمُحْتَاطِیْنَ۔فَقُلْتُ اِنِّیْ اَرَی الصَّوَابَ فِیْ تَعْظِیْمِ الْاِلْھَامِ۔وَ اِنَّ الْاِخْفَآءَ مَعْصِیَۃٌ عِنْدِ۔یْ وَ مِنْ سِیَرِاللِّئَامِ۔وَ مَا کَانَ لِاَحَدٍ اَنْ بقیہ ترجمہ۔واقعہ ایک شخص (کی ہلاکت) کا ہے جو ابھی ماہِ ذی قعدہ ۱۳۲۴ھ میں واقع ہوا ہے۔یہ شخص میرے متعلق سخت بدزبانی سے کام لیا کرتا تھا اور مجھ پر لعنتیں بھیجا کرتا تھا۔اس کانام سعد اللہ (لدھیانوی) تھا۔یہ شخص اپنی بد زبانی سے نیزہ کی طرح سخت زخم پیدا کرتا تھا۔جب اس شخص کی بَد زبانی اپنی اِنتہا کو پہنچ گئی اور وہ ایذارسانی میں سب سے آگے بڑھ گیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کے جلد ہلاک ہونے اور ذلیل و رُسوا اور اَبتر ہونے کے متعلق اپنی قضا و قدر سے آگاہی بخشی اور اس کے متعلق فرمایا اِنَّ شَانِئَکَ ھُوَالْاَ بْتَـرُ یعنی تیرا یہ دشمن مُنْقَطِعُ النَّسل اور ناکام و نامُراد رہے گا چنانچہ مَیں نے اِس وحیِ الٰہی کو لوگوں میں شائع کردیا اور ا س کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی اس وحی کی سچائی کو جو اُس نے مجھے الہام کی تھی ظاہر کردیااور اپنے فرمودہ کو پورا کردیا اِس لئے مَیں نے چاہا کہ اسے تفصیل سے بیان کرکے لوگوں میں اس کی اشاعت کروں۔لیکن ایک وکیل نے جو میری جماعت میں شامل تھا مجھے اس کی اشاعت سے روکا اور اس کے متعلق بہت خوف اور خطرہ کا اظہار کیا اور کہا کہ اس کی اشاعت کی صورت میں یہ معاملہ ضرور حکام تک پہنچے گااور اس وقت قانون کی زد اور سزا سے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہوگی اور مصائب کا ایک ختم نہ ہونے والا سلسلہ شروع ہوجائے گا اور مقدّمہ کی سخت مصیبت اُٹھانے کے بعداس کا جو نتیجہ ہوگا وہ ظاہر ہے اور ایسی صورت میں حکومت ضرور سزا دے گی اِس لئے بہتری اسی میں ہے کہ احتیاط سے کام لے کر اس وحی کا اخفاء کیا جائے۔مَیں نے اُسے کہا کہ میرے نزدیک تو راہِ صواب یہی ہے کہ الہامِ الٰہی کی تعظیم کو مقدّم کیا جائے اور اس کا اخفاء میرے نزدیک اللہ تعالیٰ کی معصیت میں داخل اور ایک کمینہ فعل ہے اور خدا تعالیٰ