تذکرہ — Page 614
یَا عِیْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ۔وَ جَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ اے عیسیٰ مَیں تجھے وفات دوں گا اور تجھے اپنی طرف اُٹھاؤں گا اور مَیں تیرے تابعین کو تیرے منکروں کَفَرُوْا اِلٰی یَوْمِ الْقَیٰمَۃِ۔ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ وَثُلَّۃٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ۔پر قیامت تک غالب رکھوں گا۔ان میں سے ایک پہلا گروہ ہو اور ایک پچھلا۔مَیں اپنی چمکار دکھلاؤں گا۔اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اُٹھاؤں گا۔دُنیا میں ایک نذیر آیا پر دُنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کردے گا۔اَنْتَ مِنِّیْ بِـمَنْزِلَۃِ تَوْحِیْدِیْ وَ تَفْرِیْدِیْ۔فَـحَانَ تُو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید اور تفرید۔پس وہ وقت آتا ہے اَنْ تُعَانَ وَ تُعْرَفَ بَیْنَ النَّاسِ۔اَنْتَ مِنِّیْ بِـمَنْزِلَۃِ عَرْشِیْ۔اَنْتَ کہ تُو مدد دیا جائے گا اور دُنیا میں مشہور کیا جائے گا۔تُو مجھ سے بمنزلہ میرے عرش کے ہے۔تُو مِنِّیْ بِـمَنْزِلَۃِ وَلَدِیْ۔۱؎ اَنْتَ مِنِّیْ بِـمَنْزِلَۃٍ لَّا یَعْلَمُھَا الْـخَلْقُ۔نَـحْنُ مجھ سے بمنزلہ میرے فرزند کے ہے۔تُو مجھ سے بمنزلہ اُس انتہائی قُرب کے ہے جس کو دُنیا نہیں جان سکتی۔ہم اَوْلِیَآءُکُمْ فِی الْـحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ۔اِذَا غَضِبْتَ غَضِبْتُ۔وَکُلَّمَا اَحْبَبْتَ تمہارے متولّی اور متکفّل دُنیا اور آخرت میں ہیں۔جس پر تُو غضبناک ہو مَیں غضبناک ہوتا ہوں اور جن سے تُو محبّت کرے اَحْبَبْتُ۔مَنْ عَادٰی وَلِیًّا لِّیْ فَقَدْ اٰذَنْتُہٗ لِلْـحَرْبِ۔اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ۔مَیں بھی محبّت کرتا ہوں۔اور جو شخص میرے ولی سے دشمنی رکھے مَیں لڑنے کے لئے اُس کو متنبہ کرتا ہوں۔مَیں اِس رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا۔۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’خدا تعالیٰ بیٹوں سے پاک ہے اور یہ کلمہ بطور استعارہ کے ہے۔چونکہ اس زمانہ میں ایسے ایسے الفاظ سے نادان عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ کو خدا ٹھہرا رکھا ہے اِس لئے مصلحت ِ الٰہی نے یہ چاہا کہ اِس سے بڑھ کر الفاظ اِس عاجز کے لئے استعمال کرے تا عیسائیوں کی آنکھیں کھلیں اور وہ سمجھیں کہ وہ الفاظ جن سے مسیح کو وہ خدا بناتے ہیں اِس اُمّت میں بھی ایک ہے جس کی نسبت اُس سے بڑھ کر ایسے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔منہ ‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۸۹ حاشیہ )