تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 611 of 1089

تذکرہ — Page 611

وَ وَحِیْنَا۔اِنَّ الَّذِیْنَ یُـبَایِعُوْنَکَ اِنَّـمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ۔یَدُ اللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِ یْـھِمْ۔اور ہمارے اشارے سے۔وہ لوگ جو تیرے ہاتھ میں ہاتھ دیتے ہیں وہ خدا کے ہاتھ میں ہاتھ دیتے ہیں۔یہ خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں وَ اِذْ یَـمْکُرُ بِکَ الَّذِیْ کَـفَّرَ۱؎۔اَوْقِدْ لِیْ یَـا ھَامَانُ لَعَلِّیْ اَطَّلِعُ عَلٰی پر ہے اور یاد کر وہ وقت جب تجھ سے وہ شخص مَکر کرنے لگا جس نے تیری تکفیر کی اور تجھے کافر ٹھیرایا اور کہا کہ اے ہامان میرے لئے آگ بھڑکا تا مَیں اِلٰہِ مُوْسٰی۔وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّہٗ مِنَ الْکَاذِبِیْنَ۔تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَھَبٍ موسیٰ کے خدا پر اطلاع پاؤں۔اور مَیں اُس کو جھوٹا سمجھتا ہوں۔ہلاک ہوگئے دونوں ہاتھ ابی لہب کے وَّ تَبَّ۲؎۔مَا کَانَ لَہٗ اَنْ یَّدْخُلَ فِیْـھَا اِلَّا خَآئِفًا۔وَ مَا اَصَا بَکَ فَـمِنَ اللّٰہِ۔اور وہ آپ بھی ہلاک ہوگیا اُس کو نہیں چاہیےتھا کہ اس معاملہ میں دخل دیتا مگر ڈرتے ڈرتے۔اور جو کچھ تجھے رنج پہنچے گا وہ تو خدا کی اَلْفِتْنَۃُ ھٰھُنَا۔فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ۔اَلَا اِنَّـھَا فِتْنَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ۔طرف سے ہے۔اس جگہ ایک فتنہ برپا ہوگا۔پس صبر کر جیسا کہ اولو العزم نبیوں نے صبر کیا۔وہ فتنہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوگا۔لِیُحِبَّ حُبًّا جَـمًّا۔حُبًّا مِّنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْاَکْرَمِ۔شَاتَانِ تُذْ بَـحَانِ۔وَکُلُّ مَنْ تا وہ تجھ سے محبّت کرے۔وہ اس خدا کی محبّت ہے جو بہت غالب اور بزرگ ہے۔دو بکریاں ذبح کی جائیں گی۔اور ہر ایک عَلَیْھَا فَانٍ۔وَ لَا تَـھِنُوْا وَ لَا تَـحْزَنُوْا۔اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ۔اَلَمْ تَعْلَمْ جو زمین پر ہے آخر وہ فنا ہوگا۔تم کچھ غم مت کرو اور اندوہ گیں مت ہو۔کیا خدا اپنے بندے کے لئے کافی نہیں ؟ کیا تُو نہیں جانتا اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍقَدِ۔یْرٌ۔وَ اِنْ یَّتَّخِذُ۔وْنَکَ اِلَّا ھُزُوًا۔اَھٰذَا الَّذِیْ کہ خدا ہر ایک چیز پر قادر ہے۔اور تجھے اُنہوں نے ٹھٹھے کی جگہ بنا رکھا ہے۔وہ ہنسی کی راہ سے کہتے ہیں کیا یہی ہے ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’ مکفّر سے مراد مولوی ابو سعید محمد حسین بٹالوی ہے۔کیونکہ اس نے استفتاء لکھ کر نذیر حسین کے سامنے پیش کیا اور اس ملک میں تکفیر کی آگ بھڑکانے والا نذیر حسین ہی تھا۔عَلَیْہِ مَا یَسْتَحِقُّہٗ۔منہ‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۸۳) ۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’اِس جگہ ابو لہب سے مرا دایک دہلوی مولوی ہے جو فوت ہوچکا ہے اور یہ پیشگوئی ۲۵ برس کی ہے جو براہین احمدیہ میں درج ہے اور یہ اُس زمانہ میں شائع ہوچکی ہے جب میری نسبت تکفیر کا فتویٰ بھی ان مولویوں کی طرف سے نکلا تھا۔تکفیر کے فتویٰ کا بانی بھی وہی دہلی کا مولوی تھا جس کا نام خدا تعالیٰ نے ابو لہب رکھا اور تکفیر سے ایک مدّت دراز پہلے یہ خبر دے دی جو براہین احمدیہ میں درج ہے۔منہ ‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۸۴ حاشیہ)