تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 596 of 1089

تذکرہ — Page 596

(ھ) ’’ اِنِّیْ اُرِیْکَ مَا یُرْضِیْکَ۔‘‘۱؎ (الاستفتاء ملحقہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ۷۰۲) ۸؍ جون۱۹۰۶ء (رؤیا) ’’اس رات مولوی عبدالکریم دیکھے ان کے ہاتھ میں …۲؎ پھر الہام ہوا۔آپ کی برکت نے ان کا مونہہ بند کردیا۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۲۵۲) ۱۱؍ جون۱۹۰۶ء ۱۔’’ رؤیا۔دیکھا کہ پندرہ سولہ نوجوان عورتیں خوبصورت اور نہایت خوش لباس پہنے ہوئے میرے سامنے آئی ہیں۔مَیں نے اِس خیال سے کہ یہ جوان عورتیں ہیں مُنہ اُن سے پھیر لیا اور اُن سے پوچھا کہ تم کیسے آئی ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم تو آپ کے پاس ہی آئی ہیں۔پھر انہوں نے وہیں ہمارے دالان میں ڈیرے لگادیئے۔فرمایا۔رؤیامیں عورت سے مُراد اقبال اور فتح مندی اور تائید ِ الٰہی ہوتی ہے۔اِس رؤیامیں یہ بھی معلوم ہوا کہ انہیں عورتوں میں وہ بھی ایک عورت تھی جو پہلے کبھی آئی تھی۔فرمایا اس میں اشارہ ایک پُرا۳؎نےر ؤیا کی طرف تھا جو حضرت والد صاحب کی وفات کے چند یَوم بعد مَیں نے دیکھا کہ مَیں ایک پِیڑھی پر بیٹھا ہوں تو ایک عورت نوجوان عمدہ لباس پہنے ہوئے تیس ۳۰ بتیس ۳۲ سال کی میرے سامنے آئی اور اس نے کہا کہ میرا ارادہ اب اِس گھر سے چلے جانے کا تھا مگر تمہارے لئے رہ گئی ہوں۔‘‘ ۲۔’’ایک زلزلہ کا نظارہ دکھائی دیا اور ساتھ ہی اس کے الہام ہوا۔لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ۔لِلہِ الْوَاحِدِ الْقَھَارِ۔‘‘۴؎ ۱ (ترجمہ از مرتّب) مَیں تجھے وہ دکھاؤں گا جو تجھے راضی کردے گا۔۲ یہ حصہ پڑھا نہ جاسکا۔(ناشر) ۳ (نوٹ ازسید عبد الحی) دیکھیے رؤیا ۱۸۷۶ء بحوالہ ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۲۰۵، ۲۰۶ ۴ (ترجمہ) آج ملک کس کا ہے۔اللہ تعالیٰ واحد قہار کا ہے۔(بدر مورخہ ۱۴؍جون ۱۹۰۶ء صفحہ ۲)