تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 584 of 1089

تذکرہ — Page 584

پھر الہام ہوا۔اَللّٰہُ یُعْلِیْنَا وَلَا نُعْلٰی ۱؎ فرمایا۔اس سے مطلب یہ ہے کہ ہم دشمنوں پر غالب ہوں گے اور دشمن سے مغلوب نہ ہوں گے۔‘‘ (بدر جلد ۲ نمبر۱۹ مورخہ۱۰ ؍ مئی ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔الحکم جلد ۱۰ نمبر۱۶ مورخہ۱۰؍ مئی ۱۹۰۶ء صفحہ۱) ۵؍ مئی۱۹۰۶ء ’’پھر بہار آئی تو آئے ثلج۲؎ آنے کے دن (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۷۶) ۱ (ترجمہ) اللہ تعالیٰ ہمیں اُونچا کرے گا ہم نیچے نہیں کئے جاویں گے۔(بدر مورخہ ۱۰؍مئی ۱۹۰۶ء صفحہ ۲) ۲ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۱۰؍مئی ۱۹۰۶ء صفحہ ۲ اور الحکم مورخہ ۱۰؍مئی ۱۹۰۶ء صفحہ ۱ میں اس پیشگوئی کے الفاظ یہ ہیں۔’’پھر بہار آئی تو آئے ثلج کے آنے کے دن۔‘‘ نیزتحریر ہے کہ ’’ ثلج کا لفظ عربی ہے۔اِس کے ایک تو یہ معنے ہیں کہ وہ برف جو آسمان سے پڑتی ہے اور شدتِ سردی کا موجب ہوجاتی ہے اور بارش اس کے لوازم سے ہوتی ہے۔اس کو عربی میں ثلج کہتے ہیں۔اِن معنوں کی بناء پر اِس پیشگوئی کے یہ معنے معلوم ہوتے ہیں کہ بہار کے دنوں میں آسمان سے ہمارے ملک میں خدا تعالیٰ غیر معمولی طور پر یہ آفتیں نازل کرے گا اور برف اور اس کے لوازم سے شدتِ سردی اور کثرتِ بارش ظہور میں آئے گی۔اور دوسرے معنے اس کے عربی میں اطمینانِ قلب حاصل کرنا ہے۔یعنی انسان کو کسی امر پر ایسے دلائل اور شواہد میسر آجاویں جن سے اس کا دِل مطمئن ہوجائے۔اِسی وجہ سے کہتے ہیں کہ فلاں تقریر موجب ِ ثلجِ قلب ہوگئی۔یعنی ایسے دلائلِ قاطعہ بیان کئے گئے کہ جن سے کُلّی اطمینان ہوگئی اور یہ لفظ کبھی خوشی اور راحت پر بھی استعمال کیا جاتا ہے جو اطمینانِ قلب کے بعد پیدا ہوتی ہے۔یہ تو ظاہر ہے کہ جب انسان کا دِل کسی امر میں پوری تسلّی اور سکینت پالیتا ہے تو اس کے لوازم میں سے ہے کہ خوشی اور راحت ضرور ہوتی ہے۔غرض یہ پیشگوئی ان پہلوؤں پر مشتمل ہے۔اِس پیشگوئی پر غور کرنے سے ذہن ضروری طور پر اِس بات کو محسوس کرتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کے نزدیک اس جگہ ثلج کے دوسرے معنے ہیں یعنی یہ کہ ہر ایک شبہ و شک کو دور کرنا اور پوری تسلّی بخشنا۔تو اِس جگہ اس فقرہ سے یہ بھی مراد ہوگی کہ چونکہ گذشتہ دونوں زلزلوں کی نسبت کج طبع لوگوں نے شبہات بھی پیدا کئے تھے اور ثلجِ قلب یعنی کُلّی اطمینان سے محروم رہ گئے تھے مگر بہار کے موسم میں ایک ایسا نشان ظاہر ہوگا جس سے ثلجِ قلب ہوجائے گی اور گذشتہ شکوک و شبہات بکلّی دُور ہوجائیں گے اور حجّت پوری ہوجائے گی۔اِس الہام پر زیادہ غور کرنے سے یہ بھی قرین ِ قیاس معلوم ہوتا ہے کہ بہار کے دنوں تک نہ صرف ایک نشان بلکہ کئی نشان ظاہر ہوجائیں گے اور جب بہار کا موسم آئے گا تو اس قدر تواتر نشانوں کی وجہ سے دلوں پر اثر ہوگا کہ