تذکرہ — Page 578
۱۲؍ اپریل۱۹۰۶ء ’’۱۔وَیْلٌ۱؎ لِّھٰذِ ہِ الْاِمْرَأَۃِ وَ بَعْلِھَا۔۲۔تَـا للّٰہِ لَقَدْ اٰثَـرَکَ اللّٰہُ عَلَیْنَا وَ اِنْ کُنَّا لَـخَاطِئِیْنَ۔‘‘۲؎ (کاپی الہامات۳؎ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۳۰۳) ۱۴؍ اپریل۱۹۰۶ء ۱۔’’ اِنَّـا اَرْسَلْنَا اِلَیْکُمْ رَسُوْلًا شَاھِدًا عَلَیْکُمْ کَمَا اَرْسَلْنَا اِلٰی فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا۔‘‘۴؎ ۲۔(رؤیا) ’’پھر دیکھا کہ ایک زلزلہ آیا اس سے معلوم ہوتاہے کہ کوئی زلزلہ عنقریب آنے کو ہے اور الہام کے رنگ میں یہی زبان پر جاری ہوا کہ ’’ زلزلہ آیا۔زلزلہ آیا۔‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ زلزلہ پہلے زلزلہ کا بقیہ نہیں ہے بلکہ ایک نیا زلزلہ ہے۔پھر خدا فرماتا ہے کہ جیسا کہ موسیٰ کے وقت میں ہوا کہ اوّل چھوٹے چھوٹے دکھائے گئے اور پھر بعد ان کے ایک بڑا نشان ظاہر کیا گیا، ایسا ہی ان دنوں میں ہوگا۔سو ہوشیار ہوجاؤ اور جس زور سے یہ بلائیں نازل ہورہی ہیں اسی زور سے توبہ اور استغفار کرو۔۱ (ترجمہ) ۱۔اس عورت کے لئے عذاب مقدر ہے اور اس کے خاوند کے لئے بھی۔(بدر مورخہ ۲۶؍اپریل ۱۹۰۶ء صفحہ ۲) ۲ (ترجمہ) ۲۔اللہ کی قسم۔بے شک خدا نے تجھے ہم پر برگزیدہ کیا ہے اور ضرور ہم خطاکار تھے۔(بدر مورخہ ۱۹؍اپریل ۱۹۰۶ء صفحہ ۲) ۳ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۲۶؍اپریل ۱۹۰۶ء صفحہ ۲ اور الحکم مورخہ ۲۴؍ اپریل ۱۹۰۶ء صفحہ ۱ میں الہام نمبر۱ کے بارہ میں تحریر ہے۔’’فرمایا۔چند روز ہوئے کہ کشفی نظر میں ایک عورت مجھے دکھلائی گئی اور پھر الہام ہوا۔وَیْلٌ لِّھٰذِ ہِ الْاِ مْرَأَۃِ وَ بَعْلِھَا۔‘‘ نیز بدر مورخہ ۱۹؍اپریل ۱۹۰۶ء صفحہ ۲ اور الحکم مورخہ ۱۷؍اپریل ۱۹۰۶ء صفحہ ۱ میں الہام’’ تَـاللّٰہِ لَقَدْ اٰثَـرَکَ اللّٰہُ عَلَیْنَا وَ اِنْ کُنَّا لَـخَاطِئِیْنَ۔‘‘ کی تاریخ ۱۳؍اپریل ۱۹۰۶ء درج ہے۔۴ (ترجمہ) ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا جو تم پر شاہد ہے جیسا کہ ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا۔(بدر مورخہ ۱۹؍اپریل ۱۹۰۶ء صفحہ ۲)