تذکرہ — Page 574
۲۷؍ مارچ۱۹۰۶ء ’’ مقام او مبین از راہِ تحقیر بدورانش رسولاں ناز کردند۔‘‘۱؎ (بدر جلد ۲ نمبر ۱۳ مورخہ ۲۹؍ مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ ۱) ۲۹؍ مارچ ۱۹۰۶ء ’’۱۔اِنَّہٗ۲؎ نَـازِلٌ مِّنَ السَّمَآءِ مَا یُـرْضِیْکَ۔۲۔اَخَّرَہُ اللّٰہُ اِلٰی وَقْتٍ مُّسَمًّی۔‘‘۳؎ یہ جواب اس دعا کا ہے۔رَبِّ اَخِّرْ وَقْتَ ھٰذَ ا۔۳۔پچاس یا ساٹھ نشان ظاہر ہوں گے۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۶۱) ۳۱ ؍مارچ۱۹۰۶ء ’’مَیں پچاس یا ساٹھ اَور نشان دکھلاؤں گا۔‘‘۴؎ (بدر جلد ۲ نمبر۱۴ مورخہ۵ ؍ اپریل ۱۹۰۶ء صفحہ ۲) مارچ۱۹۰۶ء ’’چند روز ہوئے یہ الہام ہوا تھا۔اِنَّـا نُبَشِّـرُکَ بِغُلَامٍ نَّـافِلَۃً لَّکَ۔۵؎ بقیہ حاشیہ۔عذاب سے ہے ورنہ زلزلے تو پہلے بھی آچکے ہیں۔پھر بعد اس کے ساتھ ہی یہ الہام ہوا۔رَبِّ سَلِّطْنِیْ عَلَی النَّارِ۔یعنی اے میرے خدا ! مجھے آگ پر مسلّط کردے۔یعنی ایسا کر کہ عذاب کی آگ میرے حکم میں ہوجاوے۔جس کو مَیں عذاب دینا چاہوں وہ عذاب میں گرفتار ہو اور جس کو مَیں چھوڑنا چاہوں وہ عذاب سے محفوظ رہے۔‘‘ ۱ (ترجمہ از مرتّب) اس کے مقام کو تحقیر کی نظر سے نہ دیکھ۔اس کے عہد پر تو رسولوں کو بھی ناز ہے۔۲ (ترجمہ از مرتّب) ۱۔آسمان سے وہ چیز اترنے والی ہے جو تجھے خوش کردے گی۔۲۔اللہ تعالیٰ نے اس میں تاخیر ڈال دی ہے وقت مقررہ تک۔۳ (نوٹ از ناشر) الحکم مورخہ ۳۱ مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ ۱ اور بدر مورخہ ۵؍اپریل ۱۹۰۶ء صفحہ ۲ میں بھی یہ الہام درج ہے۔بدر میں اس الہام کی تاریخ ۲۸؍مارچ ۱۹۰۶ء مندرج ہے نیز تحریر ہے۔’’فرمایا۔چھوٹے زلزلے تو آتے ہی رہتے ہیں لیکن سخت زلزلہ جو آنے والا ہے اس کے وقت میں تاخیر ڈالی گئی ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ تاخیر کتنی ہے۔‘‘ ۴ (نوٹ از ناشر) الحکم مورخہ۱۰؍ اپریل ۱۹۰۶ء صفحہ۱ میں اس الہام کے یہ الفاظ ہیں۔’’ مَیں پچاس یا ساٹھ نشان اَور دکھاؤں گا۔‘‘ ۵ (ترجمہ) ’’ ہم ایک لڑکے کی تجھے بشارت دیتے ہیں جو تیرا پوتا ہوگا۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۹۹)