تذکرہ — Page 35
اور الہامات میں یہ بھی ظاہر کیا گیا کہ وہ قوم کے شریف اور عالی خاندان ہوں گے۔چنانچہ ایک الہام میں تھا کہ خدا نے تمہیں اچھے خاندان میں پیدا کیا اور پھر اچھے خاندان سے دامادی تعلق بخشا۔سو قبل از ظہور یہ تمام الہام لالہ شرمپت کو سنا دیا گیا۔پھر بخوبی اسے معلوم ہے کہ بغیر ظاہری تلاش اور محنت کے محض خدا تعالیٰ کی طرف سے تقریب نکل آئی یعنی نہایت نجیب اور شریف اور عالی نسب… بزرگوار خاندان سادات سے یہ تعلقِ قرابت اِس عاجز کو پیدا ہوا اور اس نکاح کے تمام ضروری مصارف تیاری مکان وغیرہ تک ایسی آسانی سے خدا تعالیٰ نے بہم پہنچائے کہ ایک ذرّہ بھی فکر کرنا نہ پڑا اور اب تک اُسی اپنے وعدہ کو پورے کئے چلا جاتا ہے۔‘‘ (شحنہ حق۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۳۸۳، ۳۸۴) ۱۸۸۱ء (قریباً) ’’اس پیشگوئی کو دوسرے الہامات میں اور بھی تصریح سے بیان کیا گیا ہے یہاں تک کہ اس شہر کا نام بھی لیاگیا تھا جو دہلی ہے اور یہ پیشگوئی بہت سے لوگوں کو سنائی گئی تھی…اور جیسا کہ لکھا تھا ایسا ہی ظہور میں آیا کیونکہ بغیر سابق تعلقاتِ قرابت اور رشتہ کے دہلی میں ایک شریف اور مشہور خاندانِ سیادت میں میری شادی ہوگئی… سو چونکہ خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ میری نسل میں سے ایک بڑی بنیاد حمایت اسلام کی ڈالے گا اور اس میں سے وہ شخص پیدا کرے گا جو آسمانی روح اپنے اندر رکھتا ہوگا اس لئے اُس نے پسند کیا کہ اس خاندان کی لڑکی میرے نکاح میں لاوے اور اس سے وہ اولاد پیدا کرے جو اُن نوروں کو جن کی میرے ہاتھ سے تخم ریزی ہوئی ہے دنیا میں زیادہ سے زیادہ پھیلاوے اور یہ عجیب اتفاق ہے کہ جس طرح سادات کی دادی کا نام شہربانو تھا اسی طرح میری یہ بیوی جو آئندہ خاندان کی ماں ہوگی اس کا نام نصرت جہاں بیگم ہے۔یہ تفاؤل کے طور پر اس بات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے تمام جہان کی مدد کے لئے میرے آئندہ خاندان کی بنیاد ڈالی ہے یہ خدا تعالیٰ کی عادت ہے کہ کبھی ناموں میں بھی اس کی پیشگوئی مخفی ہوتی ہے۔‘‘ (تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۲۷۳ تا ۲۷۵) ۱۸۸۱ء (تخمیناً) ’’تخمیناً اٹھارہ برس کے قریب عرصہ گذرا ہے کہ مجھے کسی تقریب سے مولوی محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر رسالہ اشاعۃُ السّنۃ کے مکان پر جانے کا اتفاق ہوا۔اس نے مجھ سے دریافت کیا کہ آجکل کوئی الہام ہوا ہے؟ میں نے اُس کو یہ الہام سنایا جس کو میں کئی دفعہ اپنے مخلصوں کو سنا چکا تھا اور وہ یہ ہے کہ بِکْــرٌ وَّ ثَیِّبٌ