تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 34 of 1089

تذکرہ — Page 34

یہ ایک بشارت کئی سال پہلے اُس نکاح کی طرف تھی جو سادات کے گھر میں دہلی میں ہوا…اور خدیجہ اس لئے میری بیوی کا نام رکھا کہ وہ ایک مبارک نسل کی ماں ہے جیسا کہ اس جگہ بھی مبارک نسل کا وعدہ تھااور نیز یہ اس طرف اشارہ تھاکہ وہ بیوی سادات کی قوم میں سے ہوگی۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ ۵۲۴، ۵۲۵) ۱۸۸۱ ء(قریباً) ’’ قریباً اٹھارہ برس سے ایک یہ پیشگوئی ہے۔اَلْـحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الصِّھْرَ وَ النَّسَبَ ؎۱ ترجمہ۔وہ خدا سچا خدا ہے جس نے تمہارا دامادی کا تعلق ایک شریف قوم سے جو سید تھے کیا اور خود تمہاری نسب کو شریف بنایا جو فارسی خاندان اور سادات سے معجون مرکّب ہے۔‘‘ (تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ۲۷۲، ۲۷۳) ۱۸۸۱ ء(قریباً) ’’ایک مرتبہ مسجد میں بوقتِ عصر یہ الہام ہواکہ میں نے ارادہ کیا ہے کہ تمہاری ایک اور شادی کروں یہ سب سامان میں خود ہی کروں گا اور تمہیں کسی بات کی تکلیف نہیں ہوگی۔اس میں یہ ایک فارسی فقرہ بھی ہے۔ھر چہ باید نو عروسی راہماں ساماں کنم وآنچہ مطلوبِ شما باشد عطائے آں کنم؎۲ ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’ صہر اور نسب اس الہام میں ایک ہی جَعَلَ کے نیچے رکھے گئے ہیں اور ان دونوں کو قریباً ایک ہی درجہ کا امر قابلِ حمد ٹھہرایا گیا ہے اور یہ صریح دلیل اس بات پر ہے کہ جس طرح صہر یعنی دامادی کو بنی فاطمہ سے تعلق ہے اسی طرح نسب میں بھی فاطمیت کی آمیزش والدات کی طرف سے ہے اور صہر کو نسب پر مقدّم رکھنا اسی فرق کے دکھلانے کے لئے ہے کہ صہر میں خالص فاطمیت ہے اور نسب میں اس کی آمیزش۔‘‘ (تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۱۱۷ حاشیہ ) ۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام حقیقۃ الوحی میں تحریر فرماتے ہیں۔’’میں نے جناب الٰہی میں دعا کی کہ ان اخراجات کی مجھ میں طاقت نہیں۔تب یہ الہام ہوا کہ ھرچہ باید نو عروسی راہمہ ساماں کنم وآنچہ درکارِ شما باشد عطائے آں کنم یعنی جو کچھ تمہیں شادی کے لئے درکار ہوگا تمام سامان اوس کا میں آپ کروں گا اور جو کچھ تمہیں وقتاً فوقتاً حاجت ہوتی رہے گی آپ دیتا رہوں گا۔چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آیا۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۲۴۷)