تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 556 of 1089

تذکرہ — Page 556

۱۴؍ جنوری ۱۹۰۶ء ’’۱۔کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَـا وَ رُسُلِیْ۔۲۔سَلَامٌ قَـوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ۔۳۔ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔یعنی یا تو قہری غلبہ کے وقت ہماری موت ہوگی جیسا کہ قہری غلبہ مکہ میں ہوا اور یا اس وقت ہماری موت ہوگی جبکہ طبعی جوش سے لوگ ہمارے تابع ہوجائیں گے گویا مدینہ کی سی حالت اس ملک کی ہوجائے گی اور اس طرح گویا ہم مدینہ میں مریں گے۔‘‘ (کاپی الہامات۱؎ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۵۵) ۱۵؍ جنوری ۱۹۰۶ء (الف) ’’ تزلزل در ایوانِ کسریٰ فتاد‘‘ ۲؎ ( بدر جلد۲ نمبر۳مورخہ۱۹؍ جنوری ۱۹۰۶ء صفحہ۲۔الحکم جلد۱۰ نمبر۳مورخہ۲۴؍ جنوری۱۹۰۶ء صفحہ۱) (ب) ’’ صبح پیر کا دن ۱۵؍ جنوری ۱۹۰۶ء کو میں نے خواب میں دیکھا کہ امام الدین کی کنچنی بیوی گر پڑی ہوئی ہے۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۶۲) ۱ (نوٹ از ناشر) الحکم مورخہ۱۷؍ جنوری۱۹۰۶ء صفحہ۳ اور بدر مورخہ ۱۹؍جنوری ۱۹۰۶ء صفحہ ۲ میں یہ الہامات مع تفصیل درج ہیں۔بدر کی تحریر یوں ہے۔’’خدا نے ابتداء سے مقدّر کر چھوڑا ہے کہ وہ اور اس کے رسول غالب رہیں گے۔خدائے رحیم کہتا ہے کہ سلامتی ہے۔یعنی خائب و خاسر کی طرح تیری موت نہیں ہے۔اور یہ کلمہ کہ ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں، اس کے یہ معنی ہیں کہ قبل از موت مکی فتح نصیب ہوگی۔جیسا کہ وہاں دشمنوں کو قہر کے ساتھ مغلوب کیا گیا تھا اسی طرح یہاں بھی دشمن قہری نشانوں سے مغلوب کئے جائیں گے۔دوسرے یہ معنے ہیں کہ قبل از موت مدنی فتح نصیب ہوگی۔خودبخود لوگوں کے دل ہماری طرف مائل ہوجائیں گے۔فقرہ کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَـا وَ رُسُلِیْ مکہ کی طرف اشارہ کرتا ہے اور فقرہ سَلَامٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ مدینہ کی طرف۔‘‘ ۲ (ترجمہ از مرتّب) شاہِ ایران کے محل میں تزلزل پڑگیا۔(نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) چنانچہ اِس الہام کے بعد بالکل خلافِ توقع ایران میں جلد ہی شورِ بغاوت برپا ہوا اور مرزا محمد علی شاہِ ایران نے مجبوراً بتاریخ ۱۵؍ جولائی ۱۹۰۹ء روس کے سفارت خانہ میں پناہ لی۔آخر وہ تخت سے معزول کیا گیا اور پارلیمنٹ بنائی گئی۔مفصّل دیکھیے ’’دعوۃ الامیر ‘‘تصنیف حضرت سیّدنا امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز۔انوار العلوم جلد ۷ صفحہ ۵۲۳ تا ۵۲۵ شائع کردہ فضل عمر فاؤنڈیشن ربوہ۔