تذکرہ — Page 555
کیا کہ اس نے ہمارے مخالف ہماری جماعت کے متفرق ہونے کے بارے میں شائع کیا ہے بعد اس کے کچھ غنودگی ہوگئی۔پھر الہام ہوا۔قُطِـعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ لَا یُـؤْمِنُوْنَ۔یَـا قَـمَرُ یَـا شَـمْسُ اَنْتَ مِنِّیْ وَ اَنَـا مِنْکَ۔‘‘۱؎ ( کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۴) ۱۰؍جنوری۱۹۰۶ء ۱۔’’ اَللّٰہُ غَالِبٌ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ۔یُنَجِّیْکَ مِنْ کَرْ بِکَ۔‘‘۲؎ ۲۔’’ایک رؤیامیں دیکھا کہ بہت سے ہندو آئے ہیں اور ایک کاغذ پیش کیا کہ اس پر دستخط کردو۔مَیں نے کہا کہ مَیں نہیں کرتا۔انہوں نے کہا کہ پبلک نے کردیئے ہیں۔مَیں نے کہا کہ مَیں پبلک میں نہیں یا کہا کہ پبلک سے باہر ہوں۔ایک اَور بات بھی کہنے کو تھا کہ کیا خدا نے اِس پر دستخط کردیئے ہیں۔مگر یہ بات نہیں کی تھی کہ بیداری ہوگئی۔‘‘ ( بدر جلد۲ نمبر۲مورخہ۱۲؍ جنوری ۱۹۰۶ء صفحہ۲۔الحکم جلد۱۰ نمبر۲مورخہ۱۷؍ جنوری۱۹۰۶ء صفحہ۳) ۱۳؍جنوری ۱۹۰۶ء ۱۔’’۱۔قُلِ اللّٰہُ ثُمَّ ذَ رْکُلَّ شَیْءٍ۔۳؎ ۲۔اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ ھُمْ یَتَّقُوْنَ۔‘‘۴؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۴۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲ مورخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۶ء صفحہ ۳ بدر جلد۲ نمبر ۳ مورخہ۱۹؍ جنوری ۱۹۰۶ء صفحہ۲) ۲۔۱۔لَا یُقْبَلُ عَـمَلٌ مِثْقَالَ ذَ۔رَّۃٍ مِّنْ غَیْرِ التَّقْوٰی۔۲۔زَلْزَلَۃُ السَّاعَۃِ وَ نَـھْدِ۔مُ مَا یَعْمُرُوْنَ۔۳۔عَـفَتِ الدِّ۔یَـارُ کَذِکْرِیْ ۴۔قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِکُمْ رَبِّیْ لَوْ لَا دُعَآ ؤُکُمْ۔‘‘۵؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۴ ) ۱ (ترجمہ از مرتّب) اُس قوم کی جڑ کاٹی گئی جو ایمان نہیں لاتے۔اے چاند اے سورج تو مجھ سے ہے اور مَیں تجھ سے ہوں۔۲ (ترجمہ) خدا ہر شے پر غالب ہے۔تجھے تیرے کرب سے نجات دے گا۔(بدر مورخہ ۱۲؍جنوری ۱۹۰۶ء صفحہ ۲) ۳ (ترجمہ) ۱۔تو کہہ دے اللہ۔پھر سب چیزوں کو چھوڑ دے۔یعنی اللہ تعالیٰ پر پورا بھروسہ کر اور دوسرے کسی کی پرواہ نہ کر۔(بدر مورخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۶ء صفحہ ۳) ۴ (ترجمہ از مرتّب) ۲۔اللہ تعالیٰ متقیوں کے ساتھ ہے۔۵ (ترجمہ از مرتّب) ۱۔کوئی عمل تقویٰ کے بغیر ذرّہ بھر قبول نہیں کیا جائے گا۔۲۔قیامت والا زلزلہ اور جو عمارتیں بناتے جائیں گے ہم ان کو گراتے جائیں گے۔۳۔گھر مٹ جائیں گے جیسا کہ مَیں بتا چکا ہوں۔۴۔کہہ دے کہ میرے رَبّ کو تمہاری پرواہ ہی کیا ہے اگر تم دعا نہیں کروگے۔