تذکرہ — Page 537
۲۔یٰٓـاَیُّـھَا النَّاسُ اعْبُدُ۔وْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ۔‘‘۱؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۱) ۱۱؍ اکتوبر۱۹۰۵ء ۱۔رؤیا۔’’ دیکھا کہ قدرت اللہ کی بیوی روپو ٔں کی ایک ڈھیری میرے پیش کرتی ہے۔اس میں ایک لکڑی بھی ہے۔‘‘ ( بدر جلد ۱ نمبر۲۸ مورخہ ۱۳ ؍ اکتوبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۲ و الحکم جلد ۹ نمبر۳۶ مورخہ ۱۷ ؍اکتوبر۱۹۰۵ء صفحہ ۱۰) ۲۔’’الہام۔۱۔اُرِیْدُ۲؎ الْـخَیْرَ۔۲۔یٰٓـاَیُّـھَا النَّاسُ اعْبُدُ۔وْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ۔۳؎ ( الحکم جلد ۹ نمبر۳۶ مورخہ۱۷؍ اکتوبر۱۹۰۵ء صفحہ۱۰ ) ۱۲؍ اکتوبر۱۹۰۵ء ’’ اِنِّیْ مُھِیْنٌ مَّنْ اَرَادَ اِھَانَتَکَ۔‘‘۴؎ (بدر جلد ۱ نمبر۲۸ مورخہ۱۳؍ اکتوبر ۱۹۰۵ء صفحہ۲) ۱۵؍ اکتوبر۱۹۰۵ء ’’ دیکھا کہ ایک شخص نے ٹِنڈ میں تھوڑا سا پانی مجھ کو دیا ہے۔بقیہ حاشیہ۔لنگوٹی پوش ہوتے ہیں، بیٹھے ہیں جن سے کراہت ہوئی۔پھر مَیں نے شادی۵؎ خاں کو بلانا چاہا اور خیال آیا کہ اتنے آدمیوں میں سے اسے کس طرح شناخت کروں، مگر مَیں نے آواز دی تو شادی خاں فوراً کھڑا ہوگیا۔اس کے ساتھ الہام ہوا۔اِذْکَفَفْتُ عَنْ بَنِیْٓ اِسْـرَآءِیْلَ۔‘‘ ۱ (ترجمہ از ناشر) ۲۔اے لوگو! اپنے ربّ کی عبادت کرو جس نے تمہیں پیدا کیا اور ان لوگوں کو بھی جو تم سے پہلے تھے۔۲ (ترجمہ از الحکم) ۱۔مَیں خیر کا ارادہ کرتا ہوں۔۲۔اے لوگو! اپنے ربّ کی عبادت کرو جس نے تم کو پیدا کیا۔(الحکم مورخہ ۱۷؍اکتوبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۱۰) ۳ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ۱۳؍ اکتوبر ۱۹۰۵ء صفحہ۲ اور الحکم مورخہ ۱۷؍اکتوبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۱۰ میں یہ الہام تفصیل کے اختلاف سے درج ہے۔الحکم کی تفصیل یوں ہے۔’’فرمایا۔مولوی عبدالکریم صاحب کی موت پر حد سے زیادہ غم کرنا اور اس کی نسبت یہ خیال کرلینا کہ اس کے بغیر اب فلاں حَرج ہوگا ایک قسم کی مخلوق کی عبادت ہے کیونکہ جس سے حد سے زیادہ محبّت کی جاتی ہے یا حد سے زیادہ اس کی جدائی کا غم کیا جاتا ہے وہ معبود کے حکم میں ہوجاتا ہے۔خدا تعالیٰ ایک کو بُلا لیتا ہے دوسرا قائم مقام اس کے کردیتا ہے، قادر او ربے نیاز ہے۔پہلے اس سے ایک یہ بھی الہام ہوا تھا جو ۴؍ستمبر کے قریب کا ہے۔تُـؤْثِرُوْنَ الْـحَیٰوۃَ الدُّنْیَا یعنی تم دُنیا کی زندگی کو اختیار کرتے ہو۔‘‘ ۴ (ترجمہ از مرتّب) مَیں اس شخص کی اہانت کروں گا جو تیری اہانت کا ارادہ کرے گا۔۵ اِ س سے مراد میاں شادی خاں صاحبؓ مرحوم ہیں جو حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ مرحوم کے خسر تھے۔(شمس)