تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 523 of 1089

تذکرہ — Page 523

نام اور اپنی ہستی کو لوگوں پر ظاہر کرے گا۔‘‘ (بدر جلد ۱ نمبر ۱۸ مورخہ۳؍ اگست ۱۹۰۵ء صفحہ ۲۔الحکم جلد ۹ نمبر ۲۸ مورخہ۱۰؍ اگست ۱۹۰۵ء صفحہ۳ ) ۲۰؍اگست ۱۹۰۵ء ’’ فَزِعَ عِیْسٰی وَمَنْ مَّعَہٗ۔‘‘؎۱ (بدر جلد ۱ نمبر ۲۰ مورخہ ۱۷؍اگست ۱۹۰۵ء صفحہ ۲۔الحکم جلد ۹ نمبر ۳۰ مورخہ ۲۴؍ اگست ۱۹۰۵ء صفحہ ۱) ۲۲؍ اگست۱۹۰۵ء (الف) ’’ فَزِعَ عِیْسٰی وَمَنْ مَّعَہٗ۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۴۶) (ب) ’’چند آدمی سامنے ہیں۔ایک چادر میں کوئی شَے ہے۔ایک شخص نے کہا کہ یہ آپ لے لیں۔دیکھا تو اُس میں چند مُرغ ہیں اور ایک بکرا ہے۔مَیں اُن مرغوں کو اُٹھا کر اور سر سے اُونچا کرکے لے چلا تاکہ کوئی بلّی وغیرہ نہ پڑے۔راستہ میں ایک بلّی ملی جس کے منہ میں کوئی شَے مِثل چوہا ہے مگر اس بلّی نے اس طرف توجہ نہیں کی اور مَیں ان مرغوں کو محفوظ لے کر گھر پہنچ گیا۔‘‘ (بدر جلد ۱ نمبر۲۰ مورخہ۱۷؍ اگست ۱۹۰۵ء صفحہ ۲۔الحکم جلد ۹ نمبر۳۰ مورخہ۲۴؍ اگست ۱۹۰۵ء صفحہ۱) ۲۴؍ اگست۱۹۰۵ء ۱۔’’پہاڑ گرا اور زلزلہ آیا۔‘‘ ۲۔رؤیا۔’’ مَیں ایک جگہ کھڑا ہوں۔آگے ایک پردہ ہے۔پردہ کے پیچھے سے آواز آئی۔تُو جانتا ہے مَیں کون ہوں۔مَیں خدا ہوں۔جس کو چاہتا ہوں عزت دیتا ہوں جس کو چاہتا ہوں ذِلّت دیتا ہوں۔‘‘ (بدر جلد ۱ نمبر۲۱ مورخہ۲۴؍ اگست ۱۹۰۵ء صفحہ۲۔الحکم جلد ۹ نمبر۳۰ مورخہ۲۴؍ اگست ۱۹۰۵ء صفحہ۱) ۲۶؍ اگست۱۹۰۵ء ’’دیکھا کہ ایک شخص سامنے کھڑا ہے۔اس نے نہایت زور کے ساتھ قلم چلایا جیسا کہ کوئی دیا سلائی رگڑتا ہے اور اس کے قلم کے لکھنے کی آواز بھی آئی۔اس نے لکھا۔۱ (ترجمہ از مرتّب) عیسیٰ اور اس کے ساتھی گھبراگئے۔(نوٹ) ’’جس دن یہ الہام سنایا گیا یعنی ۲۱؍ اگست ۱۹۰۵ء اسی دن حضرت مخدوم و مکرم مولوی عبدالکریم صاحب غَفَرَ اللہُ لَہٗ کی گردن کے نیچے ایک چھوٹی سی پھنسی نمودار ہوگئی۔یہ مولوی صاحب مرحوم کی مرض کی ابتداء تھی اور ۵۱ دن کی مرض کے بعد ۱۱؍ اکتوبر بدھ کے روز ڑ۲ بجے دن کے حضرت مرحوم بموجب الہامِ الٰہی ’’سینتالیس سال کی عمر اِنَّـا لِلہِ وَ اِنَّـآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ‘‘ اِس دارِ ناپائیدار سے انتقال فرما کر حیاتِ ابدی میں جاداخل ہوئے۔‘‘ (ریویو آف ریلیجنز ماہ؍ اکتوبر ۱۹۰۵ء ٹائٹل پیج صفحہ ۲)