تذکرہ — Page 444
۲۹ ؍جون۱۹۰۳ء ’’ رات کے وقت جو میرے خیال پر یہ کشش غالب ہوئی کہ یہ مقدمات جو کرم الدین کی طرف سے میرے پر ہیں یا بعض میری جماعت کے لوگوں کی طرف سے کرم الدین پر ہیں ان کا انجام کیا ہوگا۔سو اس غلبہء ِ کشش کے وقت میری حالت وحیِ الٰہی کی طرف منتقل کی گئی اور خدا کا یہ کلام میرے پر نازل ہوا۔اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِیْنَ ھُمْ مُّـحْسِنُوْنَ۔فِیْہِ اٰیَـاتٌ لِّلسَّآئِلِیْنَ اِس کے معنے یہ مجھے سمجھائے گئے کہ ان دونوں فریقوں میں سے خدا اس کے ساتھ ہوگا اور اس کو فتح اور نصرت نصیب کرے گا کہ جو پرہیز گار ہیں۔یعنی جھوٹ نہیں بولتے، ظلم نہیں کرتے، تہمت نہیں لگاتے اور دَغااور فریب اور خیانت سے ناحق خدا کے بندوں کو نہیں ستاتے اور ہر ایک بدی سے بچتے اور راست بازی اور انصاف کو اختیار کرتے ہیں اور خدا سے ڈر کر اس کے بندوں کے ساتھ ہمدردی اور خیر خواہی اور نیکی کے ساتھ پیش آتے ہیں اور بنی نوع کے وہ سچے خیر خواہ ہیں۔ان میں درندگی اور ظلم اور بدی کا جوش نہیں بلکہ عام طور پر ہر ایک کے ساتھ وہ نیکی کرنے کے لئے تیار ہیں سو انجام یہ ہے کہ اُن کے حق میں فیصلہ ہوگا تب وہ لوگ جو پوچھا کرتے ہیں جو ان دونوں گروہوں میں سے حق پر کون ہے۔اُن کے لئے نہ ایک نشان بلکہ کئی نشان ظاہر ہوں گے۔‘‘ (البدر۱؎ جلد۲ نمبر۲۴ مورخہ۳ ؍جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۸۹) ۱۳؍ جولائی۱۹۰۳ء ’’ اِنِّیْ اَنَـرْتُکَ وَ اخْتَرْتُکَ‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۱۰) (ترجمہ) مَیں نے تجھے روشن کیا اور چُن لیا۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۰۵) ۱۴؍ جولائی۱۹۰۳ء ’’ ۱۔لَاتَیْئَسُوْا مِنْ خَزَآ۔ئِنِ رَحْـمَۃِ اللّٰہِ۔۲۔اِنَّـآ اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَـرَ۔۳۔یَـاْتِیْکَ مِنْ کُلِّ فَـجٍّ عَـمِیْقٍ۔۴۔یَـاْتُوْنَ مِنْ کُلِّ فَـجٍّ عَـمِیْقٍ۔۵۔وَسِّعْ مَکَانَکَ۔۶۔اِنِّیْ اَنَـرْتُکَ وَاخْتَرْتُکَ۔۷۔اِنَّـا فَتَـحْنَا عَلَیْکَ اَبْوَابَ الدُّنْیَا۔‘‘؎۲ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۱۱) ۱۸؍ جولائی۱۹۰۳ء الہام۔’’جَآءَکَ الْفَتْحُ۔ثُمَّ جَآءَکَ الْفَتْحُ ؎۳ پھر مَیں نے دیکھا کہ مبارک کو بہت سُرخ پگڑی پہنائی گئی ہے۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۱۲) ۱ (نوٹ از ناشر) الحکم مورخہ۳۰؍ جون ۱۹۰۳ء صفحہ۱۱ میں بھی یہ الہامات مع تفصیل درج ہیں۔۲ (ترجمہ از مرتّب) ۱۔اللہ کی رحمت کے خزانوں سے نا اُمید مت ہو۔۲۔ہم نے تجھے خیرِ کثیر دیا۔۳۔دُور دُور سے تیرے پاس ہدیے آئیں گے۔۴۔لوگ دُور دُور سے تیرے پاس آئیں گے۔۵۔تُو اپنے مکان کو وسیع کر۔۶۔مَیں نے تجھے روشن کیا اور چُن لیا۔۷۔ہم نے تجھ پر دُنیا کے دروازے کھول دیئے۔۳ (ترجمہ از مرتّب) تیرے پاس فتح آئی پھر تیرے پاس فتح آئی۔