تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 431 of 1089

تذکرہ — Page 431

ہے کہ وہ ۲دو زرد چادروں میں اُترے گا۔سو یہ و ُہی ۲دو زرد رنگ کی چادریں ہیں۔ایک اُوپر کے حصّہء بدن پر اور ایک نیچے کے حصّہء بدن پر۔‘‘ (نسیم دعوت۔روحانی خزائن جلد۱۹ صفحہ ۴۳۵،۴۳۶) ۹ ؍فروری ۱۹۰۳ء ’’ ۱۔اِنِّیْ مَعَ الْاَفْوَاجِ اٰتِیْکَ بَغْتَۃً۔۲۔اِنِّیْ مَعَ الْاَسْبَابِ اٰتِیْکَ بَغْتَۃً۔۳۔اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ مُـحِیْطٌ۔۴۔اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اُجِیْبُ۔میں رسول کو واسطہ ڈال کر خود جواب دوں گا۔۵۔اُخْطِیْ وَاُصِیْبُ۔۶۔اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ وَ لَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ اِلَی الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ‘‘ (کاپی الہامات۱؎ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵، ۶) (ترجمہ) ۱۔میں فوجوں کے ساتھ ناگہانی طور پر آؤں گا۔۲،۳۔۲؎ ۴۔۔میں رسول کے ساتھ ہو کر جواب دوں گا۔۵۔اپنے ارادہ کو کبھی چھوڑ بھی دوں گا اور کبھی ارادہ پورا کروں گا۔۳؎ ۶۔میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا اور وقت مقررہ تک میں اس زمین سے علیحدہ نہیں ہوں گا۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۰۶، ۱۰۷) ۱۱؍ فروری ۱۹۰۳ء (الف) ’’ اے ازلی ابدی خدا بیڑیوں کو پکڑ کے آ۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۶۔حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۰۷) (ترجمہ) ’’ اے ازلی ابدی خدا میری مدد کے لئے آ۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۰۷) ۱ (نوٹ از ناشر) البدر مورخہ ۱۳؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۵ اور الحکم مورخہ ۱۴؍ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۳ میں یہ الہامات قدرے مختلف ترتیب سے درج ہیں۔۲ (بقیہ ترجمہ از مرتّب) ۲میں خاص سامان لے کر تیرے پاس اچانک آؤں گا۔۳میں اپنے رسول کی حمایت میں (انہیں) گھیرنے والا ہوں۔۳ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’ اس وحی الٰہی کے ظاہری الفاظ یہ معنے رکھتے ہیں کہ مَیں خطا بھی کروں گا اور صواب بھی۔یعنی جو مَیں چاہوں گا کبھی کروں گا کبھی نہیں۔اور کبھی میرا ارادہ پورا ہوگا اور کبھی نہیں۔ایسے الفاظ خدا تعالیٰ کے کلام میں آجاتے ہیں۔جیسا کہ احادیث میں لکھا ہے کہ مَیں مومن کی قبضِ روح کے وقت تردّد میں پڑتا ہوں حالانکہ خدا تردّد سے پاک ہے۔اسی طرح یہ وحی الٰہی ہے کہ کبھی میرا ارادہ خطا جاتا ہے اور کبھی پُورا ہوجاتا ہے۔اس کے یہ معنی ہیں کہ کبھی مَیں اپنی تقدیر اور ارادہ کو منسُوخ کردیتا ہوں اور کبھی وہ ارادہ جیسا کہ چاہا ہوتا ہے۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ ۱۰۶حاشیہ)