تذکرہ — Page 415
کی اور خواب میں میرے پر ظاہر کیا کہ یہ دشمن تین حمایت کرنے والے اپنی کامیابی کے لئے مقرر کرے گا تاکہ کسی طرح اہانت کرے اور رنج پہنچاوے اور مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ گویا مَیں کسی عدالت میں گرفتاروں کی طرح حاضر کیا گیا ہوں اور مجھے دکھلایا گیا کہ انجام ان حالات کا میری نجات ہے۔اگرچہ کچھ مدت کے بعد ہو اور مجھے بشارت دی گئی کہ اس دشمن کذاب مہین پر بَلارَدّکی جائے گی… پھر مَیں انتظار کرتا رہا کہ کب یہ پیشگوئی کی باتیں ظہور میں آئیں گی پس جب ایک برس گزرا تو یہ مقدر باتیں کرم دین کے ہاتھ سے ظہور میں آگئیں (یعنی اس نے ناحق میرے پر فوجداری مقدمات دائر کئے)۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ ۲۲۵) ۶؍ دسمبر۱۹۰۲ء ’’اِس خواب؎۱کے بعد پھر کیا دیکھتا ہوں کہ ایک گھوڑے کا سوار ملا۔جب مَیں گھر کے قریب آیا تو ایک شخص نے میرے ہاتھ پر پیسے رکھے۔مَیں نے خیال کیا کہ اس میں دونّی چونّی بھی ہوگی آگے آیا تو دیکھا کہ فـجّو؎۲ (فضل نشان) کشمیری عورت بیٹھی ہے۔پھر جب مسجد میں گیا تو دیکھا کہ ہزارہا آدمی بیٹھے ہیں اور کپڑے سب کے پُرانے معلوم ہوتے ہیں۔مسجد میں اَور آگے بڑھا تو دیکھا ایک جنازہ رکھا ہوا ہے۔اس کی بڑی سی چارپائی ہے۔یہ معلوم نہیں کہ کس کا جنازہ ہے۔‘‘ (البدر جلد ۱نمبر۷ مورخہ ۱۲؍دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۵۴) ۸؍دسمبر۱۹۰۲ء ’’ مَیں دیکھتا ہوں کہ ایک جگہ پر وضو کرنے لگا تو معلوم ہوا کہ وہ زمین پولی؎۳ ہے اور اس کے نیچے ایک غار سی چلی جاتی ہے۔مَیں نے اس میں پاؤں رکھا تو دھس گیا اور خوب یاد ہے کہ پھر مَیں نیچے ہی نیچے چلا گیا۔پھر ایک جَست کرکے مَیں اُوپر آگیا اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مَیں ہوا میں تَیر رہا ہوں اور ایک گڑھا ہے مثل دائرے کے گول اور اس قدر بڑا جیسے یہاں؎۴ سے نواب صاحب کا گھر، اور مَیں اُس پر اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر تَیر رہا ہوں۔سیّد محمد احسن صاحب کنارہ پر تھے۔مَیں نے اُن کو بُلا کر کہا کہ دیکھ لیجئے کہ عیسیٰ ؑ تو پانی پر چلتے تھے اور مَیں ہوا پر تَیر رہا ہوں اور میرے خدا کا فضل اُن سے بڑھ کر مجھ پر ہے۔حامد علی میرے ساتھ ہے اور اُس گڑھے پر ہم نے کئی پھیرے کئے۔نہ ہاتھ نہ پاؤں ہلانے پڑتے ہیں اور بڑی آسانی ۱ یعنی تین بھینسوں والا خواب (شمس) ۲ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) فـجّو قادیان کے ایک شخص مسمّی غفّارا کی بیوی تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر میں خادمہ تھی۔۳ یعنی نرم اور کھوکھلی۔(شمس) ۴ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) یہاں سے مراد مسجد مبارک ہے اور نواب صاحب کے گھر سے مراد نواب محمد علی خاں صاحب کا وہ مکان ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر کے ساتھ متصل تھا۔