تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 411 of 1089

تذکرہ — Page 411

اور فرمایا کہ اس سے پیشتر مَیں نے تجویز کی تھی کہ ہماری جماعت کی میّتوں کے لئے ایک الگ قبرستان یہاں ہو سو خدا نے آج اس کی تائید کردی۔اور انجیل کے معنے بشارت کے ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے ارادہ کیا ہے کہ وہاں سے کوئی بڑی بشارت ظاہر کرے اور جو شخص وہ کام کرکے لائے گا وہ قطعی بہشتی ہے۔‘‘ ( البدر؎۱ جلد ۱نمبر ۵،۶ مورخہ ۲۸؍نومبرو ۵؍دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۳۵ ) ۲۰؍نومبر ۱۹۰۲ء بروز پنج شنبہ ’’فرمایا رات کو میں نے پگٹ۲؎ کے متعلق دعا کی اور صبح بھی کی مجھے یہ دکھایا گیا کہ کسی نے مجھے چار پانچ کتابیں دی ہیں جن پر لکھا ہوا تھا تسبیح تسبیح تسبیح بعد اس کے الہام ہوا۔اَللّٰہُ شَدِ۔یْدُ الْعِقَابِ۔اِنَّـھُمْ لَا یُـحْسِنُوْنَ۔؎۳ اس الہام سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی موجودہ حالت خراب ہے اور یا آئندہ توبہ نہ کریں گے۔اور یہ معنی بھی اس کے ہیں لَا یُـؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ اور یہ مطلب بھی اس سے ہے کہ اس نے یہ کام اچھا نہیں کیا۔اللہ تعالیٰ پر یہ افترا اور منصوبہ باندھا اور اَللّٰہُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ظاہر کرتا ہے کہ اس کا انجام اچھا نہ ہوگا اور عذابِ الٰہی میں گرفتار ہوگا۔حقیقت میں یہ بڑی شوخی ہے کہ خدائی کا دعویٰ کیا جاوے۔‘‘ ( البدر؎۴ جلد۱ نمبر ۵، ۶ مورخہ ۲۸؍نومبرو ۵؍دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ۴۶) ۱ (نوٹ از ناشر) الحکم مورخہ ۲۴؍نومبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۴ میں یہی خواب باختلاف الفاظ درج ہے۔۲ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) پگٹ (Piggott) لنڈن کا ایک پادری تھا جس نے دعویٰ کیا کہ وہ مسیح موعود ہے۔چند آدمی اس کے ساتھ ہوگئے۔اس کا ایک ٹائپ شدہ اشتہار مفتی محمد صادق صاحب کے نام آیا تھا۔مفتی صاحب نے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا تب حضور نے ایک چھوٹا سا اشتہار صرف ایک صفحہ کا لکھ کر مولوی محمد علی صاحب کو دیا کہ اس کا انگریزی میں ترجمہ کرکے اور چھپوا کر ولایت بھیج دیں۔اس اشتہار میں حضور نے لکھا تھا کہ تمہارے دعویٰ کا اشتہار ہمارے سیکرٹری کے پاس پہنچا ہے۔تم اس دعویٰ میں جھوٹے ہو اور اگر تم طاقت رکھتے ہو تو میرا مقابلہ کرو۔خدا نے مجھ کو یہ بتایا ہے کہ مَیں مسیح موعود ہوں اوراسلام سچا دین ہے۔یہ اشتہار جب اس کو پہنچا تو اس نے خاموشی اختیار کی۔اس اشتہار کو ولایت کے اخباروں نے بھی چھاپا اور ان کے Cuttings (تراشے) قادیان آئے تھے۔اُن دنوں میں ایک عورت اس کے پاس رہتی تھی اس کے ساتھ اس کا تعلق ہوگیا جس کے متعلق اخباروں میں اس کے حق میں بدنامی کی خبریں شائع ہوئیں مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس اشتہار کے پہنچنے کے بعد وہ خاموش ہوگیا۔اس نے نہ پھر کبھی کوئی دعویٰ کیا اور نہ ہی اپنی کوئی جماعت بنائی اور نہ کوئی سلسلہ قائم کیا اور اسی خاموشی میں وہ فوت ہوگیا۔۳ (ترجمہ از مرتّب) اللہ کی سزا سخت ہوتی ہے یہ لوگ نیک اعمال بجا نہیں لاتے۔۴ (نوٹ از ناشر) اس الہام کے الفاظ البدر ۲۱؍ نومبر ۱۹۰۲ء صفحہ۲۵ میں بھی درج ہیں اور الحکم مورخہ ۲۴؍نومبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۶ میں قدرے اختلافِ الفاظ سے اس رؤیا کی تفصیل درج ہے۔