تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 356 of 1089

تذکرہ — Page 356

۲۵،۲۶؍ اگست ۱۹۰۰ء ’’۲۵،۲۶؍ اگست ۱۹۰۰ء کی درمیانی شب فرمایا… آج وہ الہام پورا ہوا جو کچھ مدت ہوئی شائع کیا تھا۔’’ وہ بیت الصدق کو بیت التزویر بنانا چاہتے ہیں۔‘‘ (الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳۵ مورخہ ۱۰؍ اکتوبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۸ کالم نمبر ۳) ۱۹۰۰ء (الف) ’’تحفہ گولڑویہ میں بڑے بڑے دقائق معارف بیان فرمائے ہیں۔آج فرماتے تھے خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک الہام ہوا ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ یہ رسالہ بڑا بابرکت ہوگا اِسے پورا کرو۔اور پھر الہام ہوا۔قُلْ رَّبِّ زِدْ۔نِیْ عِلْمًا۔‘‘ (از مکتوب مولانا عبدالکریم صاحبؓ مندرجہ الحکم جلد۱۰ نمبر ۳۵۔مورخہ ۱۰؍اکتوبر ۱۹۰۶ء صفحہ۹) (ب) ’’ اِس رسالہ؎۱ میں عجیب عجیب نکات و اَسرار لکھے جارہے ہیں اور اس تحفہ کی نسبت یہ وحی حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام پر نازل ہوچکی ہے کہ رَبِّ زِدْ۔نِیْ عِـلْمًا۔‘‘ (الحکم جلد۴نمبر ۳۲ مورخہ ۱۰؍ستمبر ۱۹۰۰ء صفحہ ۱۰) ۷؍ ستمبر۱۹۰۰ء ’’ حضرت کو کل دردِ سر کے وقت بار بار یہ الہام ہوا۔اِنِّیْ مَعَ الْاُمَرَآءِ اٰتِیْکَ بَغْتَۃً۔‘‘؎۲ (از مکتوب مولانا عبدالکریم صاحبؓ مورخہ۸؍ستمبر ۱۹۰۰ء مندرجہ الحکم جلد۱۰ نمبر ۳۵ مورخہ ۱۰؍اکتوبر ۱۹۰۶ء صفحہ۱۰) ۱۹۰۰ء ’’ اِسی مضمون کے لکھنے کے وقت خدا نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا کہ یَــلَاشْ خدا کا ہی نام ہے یہ ایک نیا الہامی لفظ ہے کہ اب تک مَیں نے اس کو اس صورت پر قرآن اور حدیث میں نہیں پایا اور نہ کسی لغت کی کتاب میں دیکھا۔اس کے معنے میرے پر یہ کھولے گئےکہ یَـا لَا شَـرِیْکَ اس نام کے الہام سے یہ غرض ہے کہ کوئی انسان کسی ایسی قابل ِ تعریف صفتؔ یا اسمؔ یا کسی فعل سے مخصوص نہیں جو وہ صفت یا اسم یا فعل کسی دُوسرے ۱ (نوٹ از ناشر) اس الہام کے سلسلہ میں مزید معلوما ت کے لئے دیکھیے تحفہ گولڑیہ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۴۵۲ تا ۴۵۶ و حاشیہ صفحہ ۴۴۸ تا ۴۵۰- ۲ (ترجمہ از ناشر) کہہ کہ اے میرے ربّ ! مجھے علم میں بڑھا دے - ۳ تحفہ گولڑیہ -( مرزا بشیر احمد) ۱ تحفہ گولڑویہ۔(مرزا بشیر احمد) ۲ (ترجمہ از مرتّب) یعنی مَیں تیری طرف اچانک آؤں گا۔