تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 351 of 1089

تذکرہ — Page 351

ِیْ وَ رَبِّیْ اِنَّہٗ لَـحَقٌّ وَّلَا تَکُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِیْنَ۔۹۶۔اِنَّـا زَوَّجْنَاکَھَا۔۹۷۔اِنَّـمَا اَمْرُنَا اِذَا اَرَدْنَـا شَیْئًا اَنْ نَّقُوْلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ۔۹۸۔اِنَّـمَا نُؤَخِّرُھُمْ اِلٰی اَجَلٍ مُّسَمًّی اَجَلٍ قَرِیْبٍ۔۹۹۔وَ کَانَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکَ عَـظِیْـمًا۔۱۰۰۔یَـاْتِیْکَ نُصْـرَتِیْ۔۱۰۱۔اِنِّیْ اَنَـا الرَّحْـمٰنُ۔۱۰۲۔وَ اِذَا جَآءَ نَصْـرُ اللّٰہِ وَ تَوَجَّھْتُ لِفَصْلِ الْـخِطَابِ۔۱۰۳۔قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْلَنَآ اِنَّـا کُنَّا خَاطِئِیْنَ۔۱۰۴۔وَ یَـخِرُّوْنَ عَلَی الْاَذْقَانِ۔۱۰۵۔لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ۔۱۰۶۔یَغْفِرُ اللّٰہُ لَکُمْ وَ ھُوَ اَرْحَـمُ الرَّاحِـمِیْنَ۔۱۰۷۔بُشْـرٰی لَکُمْ فِیْ ھٰذِہِ الْاَیَّـامِ۔۱۰۸۔شَاھَتِ الْوُجُوْہُ۔۱۰۹۔یَـوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰی یَدَیْہِ یَـا لَیْتَنِی اتَّـخَذْ تُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا۔۱۱۰۔وَقَالُوْا اِنْ ھٰذَا اِلَّا قَـوْلُ الْبَشَـرِ۔۱۱۱۔قُلْ لَّوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْـرًا۔۱۱۲۔وَ بَشِّـرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَ۔مَ صِدْ۔قٍ عِنْدَ رَبِّـھِمْ۔۱۱۳۔لَنْ یُّـخْزِیَـھُمُ اللّٰہُ۔۱۱۴۔مَا اَھْلَکَ اللّٰہُ اَھْلَکَ۔؎۱ ۱۱۵۔اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْا اِیْـمَانَـھُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِکَ لَھُمُ الْاَمْنُ وَ ھُمْ مُّھْتَدُ۔وْنَ۔۱۱۶۔تُفَتَّحُ لَھُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ۔۱۱۷۔نُرِیْدُ اَنْ نُّنَـزِّلَ عَلَیکَ اَسْـرَارًا مِّنَ السَّمَآءِ ۱۱۸۔وَ نُـمَزِّقَ الْاَعْدَآءَ بقیہ ترجمہ۔مجھے اپنے ربّ کی قسم ہے کہ یہ سچ ہے اور تو شک کرنے والوں سے مت ہو۔۹۶۔ہم نے اس سے تیرا عقد نکاح باندھ دیا۔۹۷۔ہم جب کسی چیز کو چاہیں تو ہمارا حکم اس کے متعلق صرف یہ ہوتا ہے کہ ہم کہتے ہیں۔ہوجا۔پس وہ ہوجاتی ہے۔۹۸۔ہم انہیں ایک مقررہ وقت تک مہلت دے رہے ہیں جو نزدیک وقت ہے۔۹۹۔اور اللہ تعالیٰ کا تجھ پر بے شمارفضل ہے۔۱۰۰۔تیرے پاس میری نصرت آئے گی۔۱۰۱۔مَیں ہی رحمان ہوں۔۱۰۲۔اور جب اللہ کی نصرت آئی اور مَیں فیصلہ کے لئے متوجہ ہوا ۱۰۳۔تو کہیں گے اے ہمارے ربّ ہمیں بخش دے ہم خطاکار ہیں۔۱۰۴۔اور ٹھوڑیوں کے بَل گریں گے (تب انہیں کہا جائے گاکہ) ۱۰۵۔آج تم پر کوئی گرفت نہیں۔۱۰۶۔اللہ تمہیں معاف کرے اور وہ سب سے زیادہ معاف کرنے والا ہے۔۱۰۷۔ان دنوں میں تمہیں بشارت ہو۔دشمنوں کے چہرے متغیر ہوجائیں گے۔۱۰۹۔اس دن ظالم کف ِ دَست ملے گا اور کہے گا کاش مَیں اس رسول کا راستہ اختیار کرلیتا۔۱۱۰۔اور کہتے ہیں یہ تو انسان کا اپنا بنایا ہوا کلام ہے۔۱۱۱۔کہہ اگر یہ غیر اللہ کا کلام ہوتا تو تم اس میں بہت اختلاف پاتے۔۱۱۲۔اور مومنوں کو بشارت دو کہ اُن کے لئے اُن کے ربّ کے حضور میں ایک ظاہر و باطن طور پر کامل درجہ ہے۔۱۱۳۔اللہ انہیں ہرگز رسوا نہیں کرے گا۔۱۱۴۔اللہ تعالیٰ تیرے اہل کو ہلاک نہیں کرے گا۔۱۱۵۔وہ لوگ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم کی ملونی سے محفوظ رکھا وہی لوگ ہیں جن کے لئے امن ہے اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔۱۱۶۔ان کے لئے آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے۔۱۱۷۔ہم تجھ پر بعض اَور آسمانی اسرار اُتارنا چاہتے ہیں۔۱۱۸۔اور دشمنوں کو پارہ پارہ کردیں گے۔۱ (نوٹ از مولانا عبد اللطیف بہاولپوری) اِس الہام کی تاریخ مرزا خدابخش صاحبؓ نے اپنے مکتوب میں ۱۸۹۷ء لکھی ہے۔(دیکھیے اصحابِ احمد جلد دوم صفحہ ۱۱۶ حاشیہ۔مطبوعہ اگست ۱۹۵۲ء)