تذکرہ — Page 319
یَـقْنَعْ بِنَمُوْذَجٍ وَ قِشْـرٍ کَالْـجُھَلَاءِ وَ الْعُمْیَانِ۔بَلْ یُـؤَدِّیْ حَـقِیْقَۃَ اَضْـحَاتِہٖ۔وَ یَقْضِیْ بِـجَمِیْعِ حَصَاتِہٖ۔وَ رُوْحِ تُقَاتِہٖ رُوْحَ الْقُرْبَانِ۔ھٰذَا ھُوَ مُنْتَـھٰی سُلُوْکِ السَّالِکِیْنَ۔وَغَایَۃُ مَقْصَدِ الْعَارِفِیْنَ۔وَ عَلَیْہِ یُـخْتَتَمُ جَـمِیْعُ مَدَارِجِ الْاَتْقِیَاءِ۔وَ بِہٖ یَکْمُلُ سَائِرُ مَرَاحِلِ الصِّدِّ یْقِیْنَ وَ الْاَصْفِیَآءِ۔وَ اِلَیْہِ یَنْتَـھِیْ سَیْرُ الْاَوْلِیَاءِ۔وَاِذَا بَلَغْتَ اِلٰی ھٰذَا فَقَدْ بَـلَّغْتَ جُـھْدَ۔کَ اِلَی الْاِنْـتِـھَاءِ۔وَ فُزْتَ بِـمَرْتَبَۃِ الْفَنَاءِ۔فَـحِیْنَئِذٍ تَصِلُ شَـجَرَۃُ سُلُوْکِکَ اِلٰی اَتَمِّ النَّـمَاءِ۔وَ تَبْلُغُ عُنُقُ رُوْحِکَ اِلٰی لُعَاعِ رَوْضَۃِ الْقُدْسِ وَ الْکِبْرِیَاءِ۔کَالنَّاقَۃِ الْعَنْقَاءِ۔اِذَا اَوْصَلَتْ عُنُقَھَا اِلَی الشَّجَرَۃِ الْـخَضْـرَاءِ۔وَ بَعْدَ ذَالِکَ جَذَبَاتٌ وَنَفَحَاتٌ وَ تَـجَلِّیَاتٌ مِّنَ الْـحَـضْـرَۃِ الْاَحَدِیَّـۃِ لِیَقْطَعَ بَعْضَ بَقَایَـا عُـرُوْقِ الْبَشَـرِیَّۃِ۔وَبَعْدَ ذَالِکَ اِحْیَاءٌ وَ اِبْقَاءٌ وَ اِدْنَاءٌ لِلنَّفْسِ الْمُطْمَئِنَّۃِ الرَّاضِیَۃِ الْمَرْضِیَّۃِ الْفَانِیَۃِ۔لِیَسْتَعِدَّ الْعَبْدُ لِقَبُوْلِ الْفَیْضِ بَعْدَ الْـحَیَاۃِ الثَّانِیَۃِ۔وَ بَعْدَ ذَالِکَ یُکْسَی الْاِنْسَانُ بقیہ ترجمہ۔جاہلوں اور نادانوں کی طرح صرف نمونہ اور پوست بے مغز پر قناعت نہ کر بیٹھے بلکہ چاہیے کہ اپنی قربانی کی حقیقت کو بجالاوے اور اپنی ساری عقل کے ساتھ اور اپنی پرہیزگاری کی روح سے قربانی کی روح کو ادا کرے۔یہ وہ درجہ ہے جس پر سالکوں کا سلوک انتہا پذیر ہوتاہے اور عارفوں کا مقصد اپنی غایت کو پہنچتا ہے۔اور اس پر تمام درجے پرہیزگاروں کے ختم ہو جاتے ہیں۔اور سب منزلیں راست بازوں اور برگزیدوں کی پوری ہو جاتی ہیں۔اور یہاں تک پہنچ کر سیر اولیاء کا اپنے انتہائی نقطہ تک جا پہنچتا ہے۔اور جب تو اس مقام تک پہنچ گیا تو تُو نے اپنی کوشش کو انتہا تک پہنچا دیا اور فنا کے مرتبہ تک پہنچ گیا۔پس اس وقت تیرے سلوک کا درخت اپنے کامل نشو و نما تک پہنچ جائے گا اور تیری رُوح کی گردن تقدس اور بزرگی کے مرغزار کے نرم سبزہ تک پہنچ جائے گی۔اُس اونٹنی کی مانند جس کی گردن لمبی ہو اور اُس نے اپنی گردن کو ایک سبز درخت تک پہنچا دیا ہو اور اس کے بعد حضرتِ احدیت کے جذبات ہیں اور خوشبوئیں ہیں اور تجلّیات ہیں تا وہ بعض اُن رگوں کو کاٹ دے کہ جو بشریت میں سے باقی رہ گئی ہوں۔اور بعد اس کے زندہ کرنا ہے اور باقی رکھنا اور قریب کرنا اُس نفس کا جو خدا کے ساتھ آرام پکڑ چکا ہے جو خدا سے راضی اور خدا اس سے راضی اور فنا شدہ ہے تاکہ یہ بندہ حیاتِ ثانی کے بعد قبولِ فیض کے لئے مستعد ہو جائے اور اس کے بعد انسان کامل کو حضرتِ احدیت کی طرف سے خلافت کا پیرایہ پہنایا