تذکرہ — Page 318
الْعِبَادَۃَ الْمُنْجِیَۃَ مِنَ الْـخَسَارَۃِ۔ھِیَ ذَبْـحُ النَّفْسِ الْاَمَّارَۃِ۔وَ نَـحْـرُھَا بِـمُـدَی الْاِنْقِطَاعِ اِلَی اللّٰہِ ذِی الْاٰلَاءِ وَ الْاَمْرِ وَ الْاِمَارَۃِ۔مَعَ تَـحَمُّلِ اَنْوَاعِ الْمَرَارَۃِ۔لِتَنْجُوَ النَّفْسُ مِنْ مَّوْتِ الْغَرَارَۃِ۔وَ ھٰذَا ھُـوَ مَعْـنَی الْاِسْلَامِ۔وَ حَقِیْقَۃُ الْاِنْقِیَادِ التَّامِّ۔وَالْمُسْلِمُ مَنْ اَسْلَمَ وَجْھَہٗ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔وَ لَہٗ نَـحَرَ نَـاقَۃَ نَفْسِہٖ وَ تَلَّھَا لِلْجَبِیْنِ۔وَمَا نَسِیَ الْـحَیْنَ فِیْ حِیْنٍ۔فَـحَاصِلُ الْکَلَامِ اَنَّ النُّسُکَ وَ الضَّحَایَا فِی الْاِسْلَامِ۔ھِیَ تَذْکِـرَۃٌ لِّھٰذَا الْمَرَامِ۔وَ حَثٌّ عَلٰی تَـحْصِیْلِ ھٰذَا الْمَقَامِ۔وَ اِرْھَاصٌ لِـحَقِیْقَۃٍ تَـحْصُلُ بَعْدَ السُّلُوْکِ التَّامِّ۔فَوَجَبَ عَلٰی کُلِّ مُؤْمِنٍ وَّ مُؤْمِنَۃٍ کَانَ یَبْتَغِیْ رَضَاءَ اللّٰہِ الْوَدُوْدِ۔اَنْ یَّفْھَمَ ھٰذِہِ الْـحَقِیْقَۃَ وَ یَـجْعَلَھَا عَیْنَ الْمَقْصُوْدِ۔وَ یُدْخِلَھَا فِیْ نَفْسِہٖ حَتّٰی تَسْـرِیَ فِیْ کُلِّ ذَرَّۃِ الْوُجُوْدِ۔وَ لَا یَـھْدَ ءْ وَ لَا یَسْکُنْ قَبْلَ اَدَاءِ ھٰذِہِ الضَّحِیَّۃِ لِلـرَّبِّ الْمَعْبُوْدِ۔وَ لَا بقیہ ترجمہ۔وہ عبادت جو آخرت کے خسارہ سے نجات دیتی ہے وہ اس نفس امارہ کا ذبح کرنا ہے کہ جو بُرے کاموں کے لئے زیادہ سے زیادہ جوش رکھتا ہے اور ایسا حاکم ہے کہ ہر وقت بدی کا حکم دیتا رہتا ہے پس نجات اس میں ہے کہ اس بُرا حکم دینے والے کو انقطاع الی اللہ کے کاردوں سے ذبح کر دیا جائے اور خلقت سے قطع تعلق کر کے خدا تعالیٰ کو اپنا مونس اور آرام جان قرار دیا جائے اور اس کے ساتھ انواع اقسام کی تلخیوں کی برداشت بھی کی جائے تا نفس غفلت کی موت سے نجات پاوے اور یہی اسلام کے معنے ہیں اور یہی کامل اطاعت کی حقیقت ہے اور مسلمان وہ ہے جس نے اپنا منہ ذبح ہونے کے لئے خدا تعالیٰ کے آگے رکھ دیا ہو۔اور اپنے نفس کی اونٹنی کو اس کے لئے قربان کر دیا ہو اور ذبح کے لئے پیشانی کے بل اس کو گرا دیا ہو اور موت سے ایک دم غافل نہ ہو۔پس حاصل کلام یہ ہے کہ ذبیحہ اور قربانیاں جو اسلام میں مروّج ہیں وہ سب اسی مقصود کے لئے جو بذل نفس ہے بطور یاددہانی ہیں اور اس مقام کے حاصل کرنے کے لئے ایک ترغیب ہے اور اُس حقیقت کے لئے جو سلوک تام کے بعد حاصل ہوتی ہے ایک ارہاص ہے۔پس ہر ایک مرد مومن اور عورت مومنہ پر جو خدائے ودود کی رضا کی طالب ہے واجب ہے کہ اس حقیقت کو سمجھے اور اس کو اپنے مقصود کا عین قرار دے اور اِس حقیقت کواپنے نفس کے اندر داخل کرے یہاںتک کہ وہ حقیقت ہر ذرّہ وجودمیں داخل ہو جائے۔اور راحت اور آرام اختیار نہ کرے جب تک کہ اس قربانی کو اپنے رب معبود کے لئے ادا نہ کرلے۔اور