تذکرہ — Page 306
۱۹؍ ستمبر ۱۸۹۹ء ’’۱۹؍ستمبر ۱۸۹۹ء کو خدا تعالیٰ نے مجھے مخاطب کرکے اپنا کلام مجھ پر نازل کیا۔اِنَّـا اَخْرَجْنَا لَکَ زُرُوْعًا یَـا اِبْـرَاھِیْمُ۔یعنی اے ابراہیم! ہم تیرے لئے ربیع کی کھیتیاں اُگائیں گے۔زُرُوْعٌ ، زَرْعٌ کی جمع ہے اور زَرْعٌ عربی زبان میں ربیع کی کھیتی یعنی کنکؔ و جَو وغیرہ کو کہتے ہیں مگر آثار ایسے نہیں ہیں کہ یہ الہام اپنے ظاہر معنوں کے رُو سے پورا ہو کیونکہ ربیع کی تخم ریزی کے ایام گویا گزر گئے لہٰذا مجھے صرف اجتہاد سے یہ معنے معلوم ہوتے ہیں کہ تجھے کیا غم ہے۔تیری کھیتیاں تو بہت نکلیں گی۔یعنی ہم تیری تمام حاجات کے متکفّل ہیں۔‘‘ (ضمیمہ تریاق القلوب نمبر ۴۔روحانی خزائن جلد۱۵ صفحہ ۵۰۴ حاشیہ) ۴؍ اکتوبر ۱۸۹۹ء ’’ ایک اَور دوسرا الہام متشابہات میں سے ہے جو ۴؍اکتوبر ۱۸۹۹ء کو مجھے ہوا اور وہ یہ ہے کہ قیصرِ ہند کی طرف سے شکریہ اب یہ ایسا لفظ ہے کہ حیرت میں ڈالتا ہے کیونکہ مَیں ایک گوشہ نشین آدمی ہوں اور ہریک قابلِ پسند خدمت سے عاری اور قبل از موت اپنے تئیں مردہ سمجھتا ہوں۔میرا شکریہ کیسا۔سو ایسے الہام متشابہات میں سے ہوتے ہیں جب تک خود خدا ان کی حقیقت ظاہر نہ کرے۔‘‘ (ضمیمہ تریاق القلوب نمبر ۴۔روحانی خزائن جلد۱۵ صفحہ ۵۰۴ حاشیہ) ۲۰؍ اکتوبر ۱۸۹۹ء ’’۲۰؍اکتوبر ۱۸۹۹ء کو خواب میں مجھے یہ دکھایا گیا کہ ایک لڑکا؎۱ہے جس کا نام عزیزؔ ہے اور اس کے باپ کے نام کے سر پر سلطاؔن کا لفظ ہے۔وہ لڑکا پکڑ کر میرے پاس لایا گیا اور میرے سامنے بٹھایا گیا۔۱ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی رضی اللہ عنہ نے تحریر فرمایا ہے کہ ’’رؤیا مذکوراشارتاً درج ہوئی تھی ورنہ صاف طورپر آپ نے فرمایا تھا کہ ’’عزیز احمد خلف مرزاسلطان احمد کو میں نے دیکھا ہے۔‘‘ (الحکم مورخہ ۱۰؍مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ ۱) چنانچہ یہ رؤیا اس طرح پوری ہوئی کہ اواخر فروری ۱۹۰۶ء میں اس رؤیا کے قریباً ساڑھے چھ سال بعد حضرت مرزا عزیز احمد صاحب ابن حضرت مرزا سلطان احمد صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دستِ مبارک پر بیعت کرکے جماعت میں داخل ہوگئے۔اس رؤیا میں حضرت مرزا عزیز احمد صاحب کو حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کی طرف منسوب کرنے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نہ صرف حضرت مرزا عزیز احمد صاحب بلکہ مرزا سلطان احمد صاحب بھی حضورؑ کی بیعت میں داخل ہوکر