تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 233 of 1089

تذکرہ — Page 233

اخویم مولوی حکیم نور الدین صاحب ایک جگہ لیٹے ہوئے ہیں اور اُن کی گود میں ایک بچہ کھیلتا ہے جو اُنہیں کا ہے اور وہ بچہ خوش رنگ خوبصورت ہے اور آنکھیں بڑی بڑی ہیں۔مَیں نے مولوی صاحب سے کہا کہ خدا نے بعوض محمد احمد آپ کو وہ لڑکا دیا کہ رنگ میں، شکل میں، طاقت میں اُس سے بدرجہا بہتر ہے اور مَیں دل میں کہتا ہوں کہ یہ تو اور بیوی کا لڑکا معلوم ہوتا ہے۔کیونکہ پہلا لڑکا تو ضعیف الخلقت، بیمار سا اور نیم جان سا تھااور یہ تو قوی ہیکل اور خوش رنگ ہے اور پھر میرے دل میں یہ آیت گذری جس کا زبان سے سنانا یاد نہیں اور وہ یہ ہے۔مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَۃٍ اَوْنُنْسِھَا نَاْتِ بِـخَیْرٍ مِّنْـھَآ اَوْ مِثْلِھَا۔اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۔؎۱ اور مَیں جانتا ہوں کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اس عَدُوّالدین؎۲کا جواب ہے کیو نکہ اس نے عیسائیوں کا حامی بن کر اسلام پر حملہ کیا اور وہ بھی بے جا اور بے ایمانی سے بھرا ہوا حملہ، اور ایک جُزو اس خواب کی رہ گئی۔مَیں نے دیکھا کہ اس بچہ کے بدن پر کچھ پھنسی یا ثُؤلُوْل کے مشابہ بخارات نکل رہے ہیں اور کوئی کہتا ہے کہ اس کا علاج ہلدی اور ایک اور چیز ہے۔وَاللہُ اَعْلَمُ۔‘‘ (انوار الاسلام۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحہ ۲۶ تا ۲۸ بقیہ حاشیہ درحاشیہ) ۱۸۹۴ء ’’اولاد کے بارے میں میاں عبدالحق؎۳نے کوئی الہام تو پیش نہ کیا صرف طولِ امل ہے لیکن ہم کو اس بارہ میں بھی الہام ہوا اور اللہ جلّ شانہٗ نے بشارت دی اور فرمایا کہ اِنَّـا نُبَشِّـرُکَ بِغُلَامٍ یعنی ہم تجھے ایک لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں؎۴۔‘‘ (انوار الاسلام۔روحانی خزائن جلد۹ صفحہ ۴۰ حاشیہ) ۱ (ترجمہ از مرتّب) جس نشان کو بھی ہم مٹادیں یا بھلوادیں اس سے بہتر دوسرا نشان یا اس جیسا نشان لاتےہیں۔کیا تُو نہیں جانتا کہ خدا تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔(البقرۃ: ۱۰۷) ۲ سعد اللہ لدھیانوی۔(مرزا بشیر احمد) ۳ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) یعنی میاں عبدالحق غزنوی ثُمَّ امرتسری۔جس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ مباہلہ کیا تھا۔۴ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’ہمیں خدا تعالیٰ نے عبدالحق کی یاوہ گوئی کے جواب میں بشارت دی تھی کہ تجھے ایک لڑکا دیا جائے گاجیسا کہ ہم اسی رسالہ انوار الاسلام میں اس بشارت کو شائع بھی کرچکے ہیں۔سو اَلْـحَمْدُ لِلہِ وَالْمِنَّۃِ کہ اس الہام کے مطابق ۲۷؍ذیقعد ۱۳۱۲ھ میں مطابق ۲۴؍مئی ۱۸۹۵ء میرے گھر میں لڑکا پیدا ہوا جس کا نام شریف احمد رکھا گیا۔‘‘ (ٹائٹل ضیاء الحق صفحہ آخر۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحہ ۳۲۳)