تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 215 of 1089

تذکرہ — Page 215

الْفَاتِـحِیْنَ۔۴۰۔وَیُـخَوِّفُوْنَکَ مِنْ دُوْنِہٖ اِنَّکَ بِاَعْیُنِنَا سَـمَّیْتُکَ الْمُتَوَکِّلَ۔۴۱۔یَـحْمَدُ۔کَ اللّٰہُ مِنْ عَرْشِہٖ۔نَـحْمَدُ۔کَ وَنُصَلِّیْ۔۴۲۔یَـآ اَحْـمَدُ یَتِمُّ اسْـمُکَ وَلَا یَتِمُّ اسْـمِیْ۔۴۳۔کُنْ فِی الدُّنْیَا کَاَنَّکَ غَرِیْبٌ اَوْ عَابِرُ سَبِیْلٍ۔وَکُنْ مِّنَ الصَّالِـحِیْنَ الصِّدِّیْقِیْنَ۔۴۴۔اَنَـا اخْتَرْتُکَ وَاَلْقَیْتُ عَلَیْکَ مَـحَبَّۃً مِّنِّیْ۔۴۵۔خُذُوا التَّوْحِیْدَ التَّوْحِیْدَ یَـآ اَبْنَآءَ الْفَارِسِ۔۴۶۔وَبَشِّـرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَ۔مَ صِدْ۔قٍ عِنْدَ رَبِّـھِمْ ۴۷۔وَلَا تُصَعِّرْ لِـخَلْقِ اللّٰہِ وَلَا تَسْئَمْ مِّنَ النَّاسِ وَ اخْفِضْ جَنَاحَکَ لِلْمُسْلِمِیْنَ۔۴۸۔اَصْـحَابُ الصُّفَّۃِ وَمَآ اَدْ۔رَاکَ مَآ اَصْـحٰبُ الصُّفَّۃِ تَرٰٓی اَعْیُنَـھُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّ۔مْعِ یُصَلُّوْنَ عَلَیْکَ رَبَّنَآ اِنَّنَا سَـمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْـمَانِ رَبَّنَآ اٰمَنَّا فَاکْتُبْنَا مَعَ الشَّاھِدِیْنَ۔۴۹۔شَاْنُکَ عَـجِیْبٌ وَّ اَجْرُکَ قَرِیْبٌ۔۵۰۔وَمَعَکَ جُنْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِیْنَ۔۵۱۔اَنْتَ مِنِّیْ بِـمَنْزِلَۃِ تَوْحِیْدِیْ وَتَفْرِیْدِیْ فَـحَانَ اَنْ تُعَانَ وَتُعْرَفَ بَیْنَ النَّاسِ۔۵۲۔بُوْرِکْتَ یَا اَحْـمَدُ وَکَانَ مَا بَارَکَ اللّٰہُ فِیْکَ حَقًّا فِیْکَ۔۵۳۔اَنْتَ وَجِیْہٌ فِیْ حَضْـرَتِیْ۔اِخْتَرْتُکَ لِنَفْسِیْ وَاَنْتَ مِنِّیْ بِـمَنْزِلَۃٍ لَّا یَعْلَمُھَا الْـخَلْقُ۔۵۴۔وَمَا بقیہ ترجمہ۔سے بہتر ہے۔۴۰اور تجھے یہ لوگ ڈراتے ہیں۔تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔مَیں نے تیرا نام متوکّل رکھا۔۴۱خدا عرش سے تیری تعریف کررہا ہے۔ہم تیری تعریف کرتے ہیں اور تیرے پر درود بھیجتے ہیں۔۴۲ اے احمد! تیرا نام پورا ہوجائے گا اور میرا نام پورا نہیں ہوگا۔۴۳تو دنیا میں ایسے طور پر رہ کہ گویا تو ایک غریب الوطن بلکہ ایک راہرو ہے اور صالح اور راستباز لوگوں میں سے ہو۔۴۴مَیں نے تجھے چن لیا اور اپنی محبت تیرے پر ڈال دی۔۴۵توحید کو پکڑو۔توحید کو پکڑو۔اے فارس کے بیٹو! ۴۶اور تُو ان لوگوں کو جو ایمان لائے یہ خوشخبری سنا کہ اُن کا قدم خدا کے نزدیک صدق کا قدم ہے۔۴۷اوراللہ تعالیٰ کی مخلوق سے رُوگردانی نہ کر اور لوگوں کے ملنے سے نہ تھک اور اطاعت اختیار کرنے والوں کے لئے اپنے بازو کو جھکا۔۴۸جو صُفّہ کے رہنے والے ہیں اور تو کیا جانتا ہے کہ کیا ہیں صُفّہ کے رہنے والے۔تُو دیکھے گا کہ اُن کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوں گے۔وہ تیرے پر درود بھیجیں گے اور کہیں گے کہ اے ہمارے خدا! ہم نے ایک منادی کرنے والے کی آواز سُنی ہے جو ایمان کی طرف بلاتا ہے۔اے ہمارے ربّ! ہم ایمان لائے۔پس ہمیں بھی گواہوں میں لکھ۔۴۹تیری شان عجیب ہے اور تیرا اجر قریب ہے۔۵۰اور آسمانوں اور زمینوں کی ایک فوج تیرے ساتھ ہے۔۵۱تُو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید اور تفرید۔پس وہ وقت آتا ہے کہ تُو مدد دیا جائے گا اور دنیا میں مشہورکیا جائے گا۔۵۲اے احمد! تو برکت دیا گیا اور جو کچھ تجھے برکت دی گئی وہ تیرا ہی حق تھا۔۵۳تومیری درگاہ میں وجیہ ہے۔مَیں نے تجھے اپنے لئے چنا۔تو مجھ سے بمنزلہ اُس انتہائی قُرب کے ہے جس کو دنیا نہیں جان سکتی ۵۴اور خدا ایسا نہیں کہ تجھ کو چھوڑ