تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 211 of 1089

تذکرہ — Page 211

۵؍جون ۱۸۹۳ء ’’ آج جلسہ مباحثہ سے واپس آنے کے بعد قریب ایک بجے دن کے حضرت اقدس کو اس مباحثہ کی فتح پر ایک بشارت بخش الہام ہوا جو حضور نے اسی وقت حاضرین کو آکرسنایا اور وہ یہ ہے۔ھَنَّأَکَ اللّٰہُ یعنی اللہ تعالیٰ تجھے مبارک باد دیتا ہے۔(عبدالکریم؎۱)۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ ۴۶۰ حاشیہ مطبوعہ ۲۰۱۸ء) جون ۱۸۹۳ء (ا) ’’یَـمُوْتُ قَبْلَ اَزْ ثَـمَانِیَہ۔؎۲ ایک دشمن کی نسبت یہ الہام ہے۔نام اس دشمن کا یاد نہیں۔(۲) یَـمُوْتُ بِغَیْرِ مَرَضٍ ؎۳یہ کس کی نسبت ہے۔پتہ معلوم نہیں۔‘‘ (رجسٹر متفرق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۸۴) ۲؍ اگست ۱۸۹۳ء ’’خواب میں مَیں نے دیکھا کہ مَیں اپنی اسی کتاب میں یہ مصرع لکھتا ہوں۔آؤبُلبُل چلیں کہ وقت آیا۔‘‘ (رجسٹر متفرق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۱۶) ۲۲؍ اگست ۱۸۹۳ء ’’۹؍صفر ۱۳۱۱ھ۔۸؍بھادوں روز سہ شنبہ۔آج رات مَیں نے دیکھا کہ ایک شخص مجھ کو کہتا ہے کہ تم ولی ہو۔مَیں نے کہا کہ کیوں کر۔اس نے جواب دیا کہ مَیں تمہارے ملنے کے لئے آیا تھا۔راہ میں دریا تھا۔مَیں نے کہا کہ اگر یہ ولی ہے تو دریا کا یہ کنارہ گر پڑے۔تبھی وہ گر پڑا اور پھر میری بیوی نے مجھ کو مبارک باد دی کہ تمہارے تیسرا لڑکا پیدا ہوا۔مبارک باد ہو۔‘‘ (رجسٹر متفرق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۱۸) ۱۸۹۳ء بقیہ حاشیہ۔بھی کردیں اور ذبح بھی کرڈالیں تب بھی وہ قسم نہیں کھائیں گے۔‘‘ (انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحہ ۳) مگر اس پر بھی آتھم نے قسم نہ کھائی۔سو چونکہ آتھم نے سچی قسم سے منہ پھیرا اور نہ چاہا کہ حق ظاہر ہو اِس لئے آخری اشتہار مورخہ ۳۰؍دسمبر ۱۸۹۵ء پر جو قسم دلانے کے لئے دیا گیا تھا ابھی سات مہینے بھی نہیں گذرے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق آتھم صاحب مورخہ ۲۷؍جولائی ۱۸۹۶ء بمقام فیروز پور اس جہان سے رخصت ہوگئے۔۱ حضرت مولانا عبدالکریم صاحبؓ سیالکوٹی۔(شمس) ۲ (ترجمہ از مرتّب) آٹھ سے پہلے مرے گا۔۳ (ترجمہ از مرتّب) بیماری کے بغیر مرے گا۔