تذکرہ — Page 188
کا نمونہ تھا۔وہ نمونہ مسیح علیہ السلام کا رُوپ بن کر مسیح موعود کہلایا… موجودہ فتنوں کے لحاظ سے مسیح کا نازل ہونا ہی ضروری تھا کیونکہ مسیح کی ہی قوم بگڑی تھی او ر مسیح کی قوم میں ہی دجّالیّت پھیلی تھی اس لئے مسیح کی رُوحانیت کو ہی جوش آنا لائق تھا۔یہ وہ دقیق معرفت ہے کہ جو کشف کے ذریعہ سے اس عاجز پر کھلی ہے۔اور یہ بھی کھلا کہ یوں مقدر ہے کہ ایک زمانہ کے گذرنے کے بعد کہ خیر اور صلاح اور غلبۂ توحید کا زمانہ ہوگا پھر دُنیا میں فساد اور شرک اور ظلم عَود کرے گا اور بعض بعض کو کیڑوں کی طرح کھائیں گے اور جاہلیت غلبہ کرے گی اور دوبارہ مسیح کی پرستش شروع ہوجائے گی اور مخلوق کو خدا بنانے کی جہالت بڑے زور سے پھیلے گی اور یہ سب فساد عیسائی مذہب سے اِس آخری زمانہ کے آخری حصّہ میں دنیا میں پھیلیں گے۔تب پھر مسیح کی روحانیت سخت جوش میں آکر جلالی طور پر اپنا نزول چاہے گی تب ایک قہری شبیہ میں اُس کا نزول ہوکر اُس زمانہ کا خاتمہ ہوجائے گا تب آخر ہوگا اور دنیا کی صف لپیٹ دی جائے گی۔اس سے معلوم ہوا کہ مسیح کی اُمّت کی نالائق کرتُوتوں کی وجہ سے مسیح کی روحانیت کے لئے یہی مقدّر تھا کہ تین مرتبہ دُنیا میں نازل ہو۔‘‘ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔روحانی خزائن جلد۵ صفحہ ۳۴۱ تا ۳۴۶) دسمبر۱۸۹۲ء ’’اب مجھ کو بتلایا گیا کہ جو مسلمان کو کافر کہتا ہے اور اس کو اہل قبلہ اور کلمہ گو اور عقائد اسلام کا معتقد پاکر پھر بھی کافر کہنے سے باز نہیں آتا وہ خود دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔سو مَیں مامور ہوں کہ ایسے لوگوں سے جو اَئـمۃ التکفیر ہیں او رمفتی اور مولوی اور محدِّث کہلاتے ہیں اور ابناء اور نِساء بھی رکھتے ہیں، مباہلہ کروں اور پہلے ایک عام مجلس میں ایک مفصّل تقریر کے ذریعہ سے ان کو اپنے دلائل سمجھادوں اور اُسی مجلس میں ان کے تمام الزامات اور شُبہات کا جو ان کے دل میں خلجان کرتے ہیں جواب بھی دے دُوں اور پھر اگر کافر کہنے سے باز نہ آویں تو اُن سے مباہلہ کروں۔‘‘ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔روحانی خزائن جلد۵ صفحہ ۲۵۶،۲۵۷) دسمبر۱۸۹۲ء ’’مباہلہ کی اجازت کے بارے میں جو کلامِ الٰہی میرے پر نازل ہوا وہ یہ ہے۔نَظَرَاللّٰہُ اِلَیْکَ مُعَطَّرًا۔وَ قَالُوْا اَتَـجْعَلُ فِیْـھَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْـھَا۔قَالَ اِنِّیْ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ قَالُوْا کِتَابٌ مُـمْتَلِـیٌٔ مِّنَ الْکُفْرِ وَ الْکَذِ بِ قُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَ نَا وَ اَبْنَآءَکُمْ وَ نِسَآءَنَا وَنِسَآءَکُمْ وَاَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَـھِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَۃَ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِ بِیْنَ۔یعنی خدا تعالیٰ نے ایک معطّر نظر سے تجھ کو دیکھا اوربعض لوگوں نے اپنےدلوں میں کہا کہ اے خدا کیا تو زمین پر ایک ایسے شخص کو قائم کردے گا کہ جو دنیا میں فساد پھیلاوے؟ تو خدا تعالیٰ نے اُن کو جواب دیا کہ جو مَیں