تذکرہ — Page 174
ہے اور ایک طرف خدائے تعالیٰ اپنے اس الہام پر بتواتر زور دے رہا ہے۔’’ قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُــحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُـحْبِبْکُمُ اللّٰہُ ؎۱ غرض یہ تمام مولوی صاحبان خدائے تعالیٰ سے لڑ رہے ہیں۔اب دیکھیے کہ فتح کِس کی ہوتی ہے۔‘‘ (نشانِ آسمانی۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ ۳۹۸، ۳۹۹) ۲۵؍جولائی ۱۸۹۲ء ’’۲۵جولائی ۱۸۹۲ء مطابق ۳۰ ؍ذی الحجہ ۱۳۰۹ھ روز دو شنبہ۔آج مَیں نے بوقت صبح صادق ساڑھے چار بجے دن کے خواب میں دیکھا کہ ایک حویلی ہے اس میں میری بیوی والدہ محمود اور ایک عورت بیٹھی ہے تب مَیں نے ایک مشک سفید رنگ میں پانی بھرا ہے اور اس مشک کو اُٹھا کر لایا ہوں اور وہ پانی لاکر ایک اپنے گھڑے میں ڈال دیا ہے۔مَیں پانی کو ڈال چکا تھا کہ وہ عورت جو بیٹھی ہوئی تھی یکایک سُرخ اور خوش رنگ لباس پہنے ہوئے میرے پاس آگئی کیا دیکھتا ہوں کہ ایک جوان عورت ہے۔پیروں سے سر تک سُرخ لباس پہنے ہوئے شاید جالی کا کپڑ اہے۔مَیں نے دل میں خیال کیا کہ وہی عورت ہے جس کے لئے اشتہار دیئے تھے لیکن اِس کی صورت میری بیوی کی صورت معلوم ہوئی۔گویا اس نے کہا یا دل میں کہا کہ مَیں آگئی ہوں۔مَیں نے کہا یا اللہ آجاوے اور پھر وہ عورت مجھ سے بغل گیر ہوئی اس کے بغل گیر ہوتے ہی میری آنکھ کھل گئی۔فَالْـحَمْدُ لِلہِ عَلٰی ذَالِکَ۔اس سے دو چار روز پہلے خواب میں دیکھا تھا کہ روشن بی بی میرے دالان کے دروازہ پر آکھڑی ہوئی ہے اور مَیں دالان کے اندر بیٹھا ہوں۔تب مَیں نے کہا کہ آ روشن بی بی اندر آجا۔‘‘ (رجسٹر متفرق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔صفحہ ۳۳ ) اگست ۱۸۹۲ء ’’ مجھے تین چار روز ہوئے ایک متوحش؎۲ خواب آئی تھی۔جس کی یہ تعبیر تھی کہ ہمارے ایک دوست پر دشمن نے حملہ کیا ہے اور کچھ ضرر پہنچاتا ہے مگر معلوم ہوتا ہے کہ دشمن کا بھی کام تمام ہوگیا۔‘‘ (از مکتوب بنام حضرت حکیم مولوی نور الدین صاحبؓ۔مکتوبات احمد جلد ۲ صفحہ۱۳۵۔مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱ (ترجمہ از مرتّب) کہہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی اختیار کرو۔اسی طرح وہ بھی تم سے محبت کرے گا۔۲ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) یہ متوحش خواب حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کے متعلق تھی اور اس میں ایک دوست سے مراد بھی آپ ہی ہیں چنانچہ حضرت اقدس ؑ اسی مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں۔’’ کل کی ڈاک میں آں مکرم کا محبت نامہ پہنچ کر بوجہ بشریت اس کے پڑھنے سے ایک حیرت دل پر طاری ہوئی مگر