تذکرہ — Page 153
ہے تو میں بخوشی اپنے لئے اِس موت کو قبول کرتا ہوں۔میری زندگی اِسی راہ میں وقف ہے۔میں موت کے ڈر سے اظہارِ حق سے رُک نہیں سکتا۔اور اے چچا! اگر تجھے اپنی کمزوری اور اپنی تکلیف کا خیال ہے تو تُو مجھے پناہ میں رکھنے سے دست بردار ہوجا۔بخدا مجھے تیری کچھ بھی حاجت نہیں میں احکامِ الٰہی کے پہنچانے سے کبھی نہیں رکوں گا۔مجھے اپنے مولیٰ کے احکام جان سے زیادہ عزیز ہیں۔بخدا اگر میں اس راہ میں مارا جاؤں تو چاہتا ہوں کہ پھر بار بار زندہ ہوکر ہمیشہ اسی راہ میں مرتا رہوں۔یہ خوف کی جگہ نہیں بلکہ مجھے اس میں بے انتہا لذّت ہے کہ اس کی راہ میں دُکھ اُٹھاؤں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ تقریر کررہے تھے اور چہرہ پر سچائی اور نورانیت سے بھری ہوئی رِقّت نمایاں ہورہی تھی اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ تقریر ختم کرچکے تو حق کی روشنی دیکھ کر بے اختیار ابو طاؔلب کے آنسو جاری ہوگئے اور کہا کہ میں تیری اس اعلیٰ حالت سے بے خبر تھا۔تُو اورہی رنگ میں اور اَور ہی شان میں ہے جا اپنے کام میں لگا رہ جب تک میں زندہ ہوں جہاں تک میری طاقت ہے میں تیرا ساتھ دوں گا۔یہ سب مضمون ابوطالب کے قصّہ کا اگرچہ کتابوں میں درج ہے مگر یہ تمام عبارت الہامی ہے جو خدائے تعالیٰ نے اِس عاجز کے دل پر نازل کی صرف کوئی کوئی فقرہ تشریح کے لئے اِس عاجز کی طرف سے ہے اس الہامی عبارت سے ابو طالب کی ہمدردی اور دلسوزی ظاہر ہے لیکن بکمال یقین یہ بات ثابت ہے کہ یہ ہمدردی پیچھے سے انوار نبوت وآثار استقامت دیکھ کر پیدا ہوئی تھی ہمارے سیّد ومولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑا حصّہ عمر کا جو چالیس برس ہے بے کسی اور پریشانی اور یتیمی میں بسر کیا تھاکسی خویش یا قریب نے اس زمانہ تنہائی میں کوئی حق خویشی اور قرابت کا ادا نہیں کیا تھا یہاں تک کہ وہ روحانی بادشاہ اپنی صغر سنی کی حالت میں لاوارث بچوں کی طرح