تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 116 of 1089

تذکرہ — Page 116

کی نسبت بعض متوحش خبریں جو کسی کے ابتلا اور کسی کی موت و فوت اعِزّہ اور کسی کی خود اپنی موت پر دلالت کرتی ہیں جو انشاء اللہ القدیر بعد تصفیہ لکھی جائیں گی منجانب اللہ منکشف ہوئی ہیں۔‘‘ (اشتہار ۲۰فروری۱۸۸۶ء۔مجموعہ اشتہارات جلد ۱ صفحہ ۱۲۳،۱۲۴ مطبوعہ ۲۰۱۸ء) (ب) ’’ دلیپ سنگھ کی نسبت پیش از وقوع اُس کو؎۱ بتلایا گیا کہ مجھ کو کشفی؎۲طور پر معلوم ہوا ہےکہ پنجاب کا آنا اُس کے لئے مقدر نہیں۔یا تو یہ مرے گا اور یا ذلّت اور بے عزتی اُٹھائے گا اور اپنے مطلب سے ناکام رہے گا۔‘‘ (شحنہ حق۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۳۸۲) ۱۸۸۶ء (الف) ’’خداوند کریم جلّ شانہٗ نے اُس شہر کا نام بتادیا ہے کہ جس میں کچھ مدت بطور خلوت رہنا چاہیے اور وہ ہوشیارپور؎۳ہے۔(از مکتوب بنام چوہدری رستم علی صاحبؓ مکتوبات احمد جلد ۲ صفحہ ۴۷۲ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) (ب) ’’ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک الہام مشہو رہوچکا ہے… بایں الفاظ یا بایں معنی ایک معاملہ کی عقدہ کشائی ہوشیار پور میں ہوگی۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر ۳۶ مورخہ۵ستمبر۱۹۰۷ء صفحہ ۱۰) ۱ لالہ شرمپت کو۔(شمس) ۲ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) مولوی جمال الدین صاحبؓ سکنہ سیکھواں ضلع گورداسپور کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کشف حضور کو ماہ نومبر۱۸۸۵ء میں ہو اتھا۔لکھتے ہیں۔’’یہ خاکسار درماہ نومبر۱۸۸۵ء کو واسطے ملاقات جناب مرزا صاحب موصوف (حضرت مسیح موعود علیہ السلام) کے گیا اور اسی روز منجانب اللہ بابت مہاراجہ دلیپ سنگھ کے منکشف ہوا تھا وہ میرے پاس اور نیز کئی آدمی جو اس وقت موجود تھے ظاہر کیا کہ یہ لوگ آمدن دلیپ سنگھ صاحب کے (باعث)سرور و خوشی کررہے ہیں یہ ان کو سرور حاصل نہ ہوگا۔مجھ کو آج خدا کی طرف سے ظاہر ہوا ہے کہ جب وہ آئے گا بہت شدائد و مصائب اُٹھائے گا۔بلکہ یہاں تک اس وقت مرزا صاحب نے فرمایا کہ اس کی لاش ایک صندوق میں مجھ کو دکھلائی گئی ہے۔‘‘ (رجسٹر روایات صحابہ نمبر ۴ صفحہ ۱۵۵ روایت مولوی جمال الدین صاحب سیکھوانیؓ) ۳ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) میاں عبداللہ صاحب سنوریؓ کی روایت ہے کہ پہلے حضورؑ کا ارادہ چلّہ کشی کے لئے سوجان پور ضلع گورداسپور میں جانے کا تھا مگر بعد میں الہام ہوا کہ ’’تمہاری عقدہ کشائی ہوشیار پور میں ہوگی۔‘‘ (سیرۃ المہدی جلد اوّل صفحہ ۶۲ مطبوعہ ۲۰۰۸ء )