تذکرہ — Page 88
ڈراوے جن کے باپ دادوں کو کسی نے نہیں ڈرایا سو وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔اس جگہ یوسف کے لفظ سے یہی عاجز مراد ہے کہ جو باعتبار کسی روحانی مناسبت کے اطلاق پایا۔وَاللہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔‘‘ (براہین احمدیہ حصّہ چہارم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۶۶۱، ۶۶۲ حاشیہ در حاشیہ نمبر۴) ۱۸۸۳ء ’’بعد اس کے فرمایا۔۱۔قُلْ عِنْدِیْ شَھَادَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ فَھَلْ اَنْتُمْ مُّؤْمِنُوْنَ۔۲۔اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَـھْدِیْنِ۔۳۔رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَـمْ مِّنَ السَّمَآءِ۔۴۔رَبُّـنَا عَاجٍ۔۵۔رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَـیَّ مِـمَّا یَدْعُوْنَـنِیْ اِلَیْہِ۔۶۔رَبِّ نَـجِّنِیْ مِنْ غَـمِّیْ۔۷۔اِیْلِیْ اِیْلِیْ لِمَا سَبَقْتَنِیْ۔۸کرم ہائے تو مارا کرد گستاخ۔۱کہہ میرے پاس خدا کی گواہی ہے۔پس کیا تم ایمان نہیں لاتے۔یعنی خدائے تعالیٰ کا تائیدات کرنا اور اسرار غیبیہ پر مطلع فرمانا اور پیش از وقوع پوشیدہ خبریں بتلانا اور دعاؤں کو قبول کرنا اور مختلف زبانوں میں الہام دینااور معارف اور حقائق الٰہیہ سے اطلاع بخشنا یہ سب خدا کی شہادت ہے جس کو قبول کرنا ایماندار کا فرض ہے۔پھر بقیہ الہامات ِ بالا کا ؎۱ یہ ہے کہ ۲بہ تحقیق میرا رب میرے ساتھ ہے وہ مجھے راہ بتلائے گا۔۳اے میرے ربّ میرے گناہ بخش اور آسمان سے رحم کر۔۴ہمارا ربّ عاجی ہے (اس کے معنی ابھی تک معلوم نہیں ہوئے) ۵جن نالائق باتوں کی طرف مجھ کو بُلاتے ہیں اُن سے اے میرے ربّ مجھے زندان بہتر ہے۔۶اے میرے خدا مجھ کو میرے غم سے نجات بخش۔۷اے میرے خدا! اے میرے خدا! تُونے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔۸تیری بخششوں نے ہم کو گستاخ کردیا۔یہ سب اسرار ہیں کہ جو اپنے اپنے اوقات پر چسپاں ہیں جن کا علم حضرت عالم الغیب کو ہے۔‘‘ (براہین احمدیہ حصّہ چہارم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۶۶۲ تا ۶۶۴ حاشیہ در حاشیہ نمبر۴) ۱۸۸۳ء ’’ پھر بعد اس کے فرمایا۔ھو شعنا۔نعسا ۱ سہو کتابت ہے ’’ترجمہ‘‘ کا لفظ لکھنے سے رہ گیا ہے۔(ناشر)