تذکرۃ الشہادتین اور پیغام صلح بطرز سوال و جواب

by Other Authors

Page 10 of 55

تذکرۃ الشہادتین اور پیغام صلح بطرز سوال و جواب — Page 10

پہنچے اور حضرت مسیح موعود کو بہوری صفت علماء سے قرآن کریم میں دعا سکھا دی گئی تھی غیر المغضوب عليهم ولا الضالين -4 حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی کے درمیان چودہ سو سال کا فرق تھا۔آنحضور اور حضرت مسیح موعود کے درمیان چودہ سو سال کا فرق تھا۔- گمراہی کے دور میں یہود کے لئے قرآن نے کہا لِنَنْظُر كَيْفَ تَعْمَلُونَ اور گمراہی کے دور میں مسلمانوں کے لئے قرآن پاک میں الفاظ ہیں لننظر کیف تعملون دونوں آیتوں کے معنی ہیں خدا تمہیں خلافت اور حکومت عطا کر کے پھر دیکھے گا کہ تم راستبازی پر قائم رہتے ہو یا نہیں، دونوں سلسلے نیکی اور یدی میں مشابہت رکھتے ہیں۔۔اسرائیلی یہودیوں میں سے ان کی اصلاح کے لئے حضرت عیسی آئے۔اسی طرح اُمت محمدیہ کی اصلاح کے لئے انہیں میں سے مسیح کو آنا تھا۔امامكم منكم - حضرت عیسی کی تکذیب کی سزا طاعون کی صورت میں دی گئی باقی طبطوس نامی رومی کے ہاتھوں سخت عذاب کے ساتھ ملک سے منتشر کئے گئے۔میسیج محمدی کی تکذیب کی سزا بھی طاعون سے دی گئی۔محمدتی سلسله موسوی سلسلہ کا کسی صورت محتاج نہیں نہ قرآن پاک توربیت کا محتاج ہے نہ یہ امت کسی اسرائیلی بنی کی محتاج ہے۔سوال : خدا تعالیٰ نے بعض مسلمانوں کو یہود قرار دیا ہے۔ثابت کیجئے، جواب : سب مفسرین متفق ہیں کہ مغضوب علیہم سے مراد یہود ہیں جن