تذکرۃ المہدی — Page 97
تذكرة المهدي 97 کہ جس پر بڑے زور اور تحدی سے آپ ایک ان ہونی بات کا دعوی کر بیٹھتے ہیں اور ذرا سی دل پر جھجک نہیں ہوتی ہے فرمایا جیسا کہ محدثین کی اصطلاح میں حدیثوں کے بارہ میں تواتر ہوتا ہے ایسا ہی صوفیائے کرام اور انبیاء عظام کے ہاں تواتر ہوتا ہے جس کے بعد کوئی ظن ریب وغیرہ نہیں رہتا اور وہ یہ ہے کہ خواب- ردیا- کشف - وحی سب کے سب بلکہ بار بار وحی کا آنا ہوتا ہے تو یہ تو اتر کہلاتا ہے اس کے بعد کل حجاب درمیانی اٹھ جاتے ہیں اور سوائے یقین کے اور کچھ درمیان نہیں رہتا تو پھر ہم لوگ اس پر نہایت صدق سے جم جاتے ہیں اور تحدی کر بیٹھتے ہیں کیونکہ تو اتر یقین سے بڑھا ہوا ہوتا ہے۔اور مجھے فرمایا کہ ہر روز بعد نماز صبح یہ دوا یوسف علی صاحب کو ہم سے لا کر کھلانا چاہئے اور یہ بھی فرمایا کہ بعد تمہارے دوالانے کے ایک دوا ہمیں الہام سے اور معلوم ہوئی ہے وہ بھی اس دوا میں شامل کر دیں گے۔خاکسار راقم الحروف کو بے تکلف جب چاہتا حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہو جایا کرتا تھا لیکن پھر بھی حاضری کی تمنا رہتی تھی دوا ہر روز لانا ایک اور سبب حضوری کامل گیا۔اس کے بعد یو ما نیوم وساعته بساعتہ یوسف علی کامل صحت کی طرف آنے لگا اور حضرت اقدس علیہ السلام بھی ہر روز مسیر سے واپس تشریف لاتے ہوئے یوسف علی صاحب کے پاس ضرور تشریف لاتے تھے ایک روز یوسف علی صاحب نے غسل صحت کیا اور اصلاح بنوائی اور پچاس ساٹھ قدم تک نہلے۔آج اس حالت کو دیکھ کر یقین ہو گیا کہ اللہ تعالٰی نے برکت دعا حضرت اقدس علیہ السلام صحت عطا فرمائی اور حضرت اقدس علیہ السلام کو اطلاع دی گئی آپ نہایت خوش ہوئے اور حمد و ثنا الہی زبان پر جاری ہوئی رات کے دس بجے کھانے اور نماز سے فارغ ہو کر شیخ محمد اسماعیل سرسادی اور شیخ محمد فیض اور ہمشیرہ زادہ مرحوم اور سید محمد رشید شاہ صاحب سیالکوٹی اور پانچ چار اور صاحب بیٹھے ہوئے مرحوم کے