تذکرۃ المہدی — Page 77
تذكرة المهدي 77 ه اول ا مگر جب یہ مرحوم آتے تو آپ سب کام چھوڑ کر مرحوم سے ملتے۔الغرض جب مرحوم کا جنازہ قبرستان میں گیا تو حضرت اقدس علیہ السلام نے نماز جنازہ پڑھائی اور خود امام ہوئے نماز میں اتنی دیر لگی کہ ہمارے مقتدیوں کے کھڑے کھڑے پیر دیکھنے لگے اور ہاتھ باندھے باندھے درد کرنے لگے اوروں کی تو میں کہتا نہیں کہ ان پر کیا گزری لیکن میں اپنی کہتا ہوں کہ میرا حال کھڑے کھڑے بگڑ گیا اور یوں بگڑا کہ کبھی ایسا موقع مجھے پیش نہیں آیا کیونکہ ہم نے تو دو منٹ میں نماز جنازہ ختم ہوتے دیکھی ہے پھر مجھے ہوش آیا تو سمجھا کہ نماز تو یہی نماز ہے پھر تو میں مستقل ہو گیا اور ایک لذت اور سرور پیدا ہونے لگا اور یہ جی چاہتا تھا کہ ابھی اور نماز لبی کریں در حقیقت یہ صادقوں کے صدق کے نشان ہوتے ہیں اور یہ بھی کرامت کا نشان ہوتا ہے اس واسطے اللہ تعالی نے فرمایا كونوا مع الصادقین معیت صادقین اگر کوئی شے نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ امر کے صیغہ سے نہ فرما تا صادق میں صدق دراستی کی طرف جذب و کشش کا ایک روحانی اثر ہوتا ہے جس کے اثر سے انسان یوں کھینچ جاتا ہے کہ جیسے لوہا مقناطیس کی طرف کھینچ جاتا ہے غرض کہ نماز میں اس قدر دیر لگی ہوگی کہ ایک آدمی ایک میل تک چلا جائے اور اگر اس کو مبالغہ نہ سمجھا جائے تو میں بلا خوف کہہ سکتا ہوں کہ جانیوالا ہے شک واپس آجائے جب نماز جنازہ سے فارغ ہوئے تو حضرت اقدس علیہ السلام مکان کو تشریف لے چلے۔ایک صاحب نے عرض کیا کہ : حضور! (علیک الصلوۃ والسلام) اتنی دیر نماز میں لگی کہ تھک گئے۔حضور کا کیا حال ہوا ہو گا۔یعنی آپ بھی تھک گئے ہونگے۔حضرت اقدس علیہ السلام: ہمیں تھکنے سے کیا تعلق ہم تو اللہ تعالٰی۔دعائیں کرتے تھے اس سے اس مرحوم کے لئے مغفرت مانگتے تھے مانگنے والا بھی کبھی تھکا کرتا ہے جو مانگنے سے تھک جاتا ہے وہ رہ جاتا ہے ہم مانگنے والے اور وہ دینے والا پھر تھکنا کیسا جس سے ذراسی بھی امید ہوتی ہے وہاں سائل ڈٹ جاتا ہے