تذکرۃ المہدی — Page 75
تذكرة المهدي 75 کرتا تو مرحوم کی پیشانی پر بل پڑ جاتے تھے اور وہ انکو بدتر سے بد تر خیال کیا کرتا تھا۔ان اثر الناس مولویوں کی نماز سے تو بے نماز ہی جنازہ رہتا تو بہتر تھا اس لئے که مسیح وقت علیہ السلام خود دعائیں کر چکا۔اور مرحوم دعائیں کراچکا۔اور نماز جنازہ بھی تو ایک دعا ہی ہے ایمان ایک ایسی شئے بے بہا ہے کہ کوئی شئے اس کو دور نہیں کر سکتی۔حضرت اقدس علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ اگر کوئی ایمان پر اس دنیا سے رخصت ہو تو کوئی اس کو بول و براز میں جیسکدے تو اس کا کچھ نہیں بگڑتا۔اور اگر کوئی بے ایمان مرے تو کیسے ہی اس کو عطر و گلاب میں رکھے تو اس کو کچھ فائدہ نہیں پہنچتا۔پھر یہ حدیث شریف پڑھتے اَلْقَبَرُ رُوضً رِيَاضِ الْجَنَّةِ وَحُفْرَةٌ مِّنْ حُفَرِ النيران اس پر مجھے ایک واقعہ یاد آگیا۔حضرت مولانا عبد الحق محدث دہلوی نے اختصارا اپنی کتاب اخبار الاخیار میں اور حضرت خواجہ نظام الدین ولی الاولیاء محبوب الہی رحمتہ اللہ علیہ کے مرید نے آپ کی زبان مبارک سے سنکر سیر الاولیاء میں لکھا ہے کہ حضرت قطب الاقطاب قطب جمال الدین احمد ہانسوی (راقم کے جد امجد) تحصیل علوم میں مشغول ہوئے اور حدیث پڑھنی شروع کی تو جب یہ حدیث پڑھی کہ الْقَبَرُ رَوْضَةٌ مِنْ رياض الخ تو اس قدر روئے کہ رخسار آنسوؤں سے تر ہو گئے اور جب تک زندہ رہے اس حدیث کو پڑھتے اور روتے اور اللہ سے پناہ مانگتے جب ان کا انتقال ہوا تو مد فون کرنے کے بعد گنبد کی بنیاد کھودی گئی اور قبر کے قریب ایسی اور اس قدر خوشبو آئی کہ لوگ اس کی برداشت نہ کر سکے۔الغرض حضرت اقدس نے نواب صاحب کے جنازہ کی نماز اپنے نماز جنازہ مکان پر پڑھی اور دعا مغفرت ورحمت بہت کی۔جنازہ کی نماز جو حضرت اقدس علیہ السلام پڑھاتے تھے سبحان اللہ سبحان اللہ کیسی عمدہ اور باقاعدہ موافق سنت پڑھاتے تھے سینکڑوں دفعہ آپ کو نماز جنازہ حاضر و غائب پڑھانے اور آپ کے پیچھے پڑھنے کا اس خاکسار کو اتفاق ہوا ہے ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ