تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 74 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 74

تذكرة المهدى 74 نصه اول۔دعائیں کیں۔اور کر رہا ہوں اور یہ وصیت نماز جنازہ بھی حضرت اقدس تک پہنچا وی اور نواب صاحب مرحوم کا انتقال ہو گیا جب نواب صاحب کا انتقال ہوا تو نواب صاحب کے اقربا انکی اولاد اور بھائی مولویوں کے زیر اثر اور مرعوب تھے۔اور مولوی محمد اور مولوی عبد اللہ اور مولوی عبد العزیزیہ تینوں حضرت اقدس علیہ السلام کے کمفر اور کمفرین اولین میں سے تھے تینوں یہودی صفت بلکہ ان سے بھی بڑھ چڑھ کر تھے اور اس وقت سے کمفر اور سخت مخالف تھے کہ جب سے براہین احمدیہ شائع ہوئی تھی تمام مولوی خاموش یا موافق تھے مگر یہ بد قسمت اور ایک بد بخنت مولوی غلام دستگیر قصوری مخالف تکفیر کے علاوہ سب و شتم کرنے والے تھے اور ان مولویوں کی یہ عادت تھی کہ جو مولوی درویش لودھیانہ میں آئے اور ان سے مل لیا تو خیر اور جو نہ ملا تو بس اس کو کفر کا نشانہ بنایا یہ تینوں مثلث مولوی اس آیت کے مصداق تھے کہ اِنْطَلِقُوا إِلى ظِلّ ذِى ثَلْتِ شُعَبِ لا ظَلِيلٍ وَلَا يُغْنِي مِنَ اللَّهَبِ چلو اس تین رفے سایہ کی طرف جس میں نہ سایہ ہے نہ ٹھنڈک ہے اور نہ گرم لپیٹ سے بچاؤ کی کوئی صورت ہے۔انہوں نے اس زمانہ میں حضرت اقدس علیہ السلام کی مخالفت میں ایک قیامت برپا کر رکھی تھی ان مولویوں کو بھی خبر نواب صاحب کی وصیت نماز جنازہ پہنچ چکی تھی۔ان مولویوں اور معتقدوں نے نواب صاحب کے اقربا کو کہلا بھیجا کہ اگر مرزا (امام موعود علیہ السلام) جنازہ پر آیا تو ہم اور کوئی مسلمان جنازہ پر نہ آئیں گے اور تم پر کفر کا فتویٰ لگ جائے گا اور آئندہ تم میں سے جو مرے گا تو نماز جنازہ کوئی نہ پڑھے گا وہ بیچارے ڈر گئے اور یہ خیال نہ کیا کہ ان یہود صفت مولویوں کی کیا مجال ہے کہ ایسا کر سکیں کیا یہ ہمیشہ زندہ رہیں گے اور کیا اور کوئی بنده خدا کا نماز جنازہ پڑھانے والا نہ ملے گا اور حضرت اقدس علیہ السلام کے مرید لودھیانہ میں نہیں ہیں۔ان کی کمزوری اور ضعف ایمانی نے ان کو ڈبو دیا۔وہ مرحوم بھی ان سے متنفر تھا اور جب ان مولویوں کا ذکر کبھی مرحوم کے روبرو کوئی۔