تذکرۃ المہدی — Page 5
تذكرة المهدى 5 کیا۔حضرت اقدس یہ بات سن کر ہننے لگے اور بڑی دیر تک اس معالمہ میں بات چیت کرتے رہے اور حالات مقدمہ کے دریافت فرماتے رہے۔آخر میں فرمایا کہ اپنے حق کو چھوڑنا نہیں چاہئے۔پھر مجھ کو ملنے کی حضرت اقدس علیہ السلام سے فرصت نہ ملی اور میں نے ایک عریضہ کے ذریعہ سے اجازت چاہی آپ نے ایک عبارت اس عریضہ کی پشت پر تحریر فرمائی جس کے ذریعہ اجازت جانے اور اپنے حق کی طلب کی اجازت مل گئی۔قادیان سے روانگی پیس میں مع اہل وعیال حسب الاجازت حضرت اقدس علیہ السلام و حضرت حکیم الامت دارلامان سے روانہ ہونے کو تھا تو اس سے ایک روز پہلے میرے بڑے برادر شاہ خلیل الرحمن صاحب جمالی کا خط آیا کہ میں ایک مقدمہ کی ضرورت کے لئے لدھیانہ آیا ہوا ہوں اور ایک صورت مقدمہ کی کامیابی کی نسبت غیب سے خدا نے پیدا کی ہے اور وہ بغیر تمہارے آئے بن نہیں سکتی لہذا تم سر سادہ مت پہنچنا سیدھے لدھیانہ آجاؤ پھر ہم تم ساتھ ساتھ سر سادہ چلیں گے۔پس میں قادیان شریف سے لودھیانہ کو روانہ ہونے لگا تو زنانی سواریاں یکہ میں سوار ہو ئیں اور میں حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوا دروازہ پر دستک دی تو آپ نے فرمایا کون صاحب ہیں میں نے عرض کیا کہ سراج الحق ہے۔فرمایا صاحبزادہ صاحب ہیں اچھا اندر آؤ میں اندر گیا فرمایا اب جاتے ہو میں نے عرض کی کہ ہاں فرمایا جلد آنے کی کوشش کرنا زندگی کا کچھ اعتبار نہیں ہے اور بلاؤں کے دن ہیں اور جب فرصت ملے تب ہی آجانا۔آنے میں سستی نہ کرنا میں نے کہا حضور بھی دعا میں یاد رکھیں تاکہ اللہ تعالی کامیابی کے ساتھ واپس دار الامان میں لائے پھر میں حضرت حکیم الامت کی خدمت میں حاضر ہوا اور سب حالات عرض کئے آپ نے خوشی سے اجازت دی اور آنے کے لئے بار بار فرمایا اور دعا بھی کی۔